کمسن لڑکی کا اغو و دست درازی کیس ‘ تحقیقات میں پیشرفت

   

واقعہ میں استعمال شدہ دو کاروں کی نشاندہی ۔ سیاسی دباؤ قبول نہ کرنے پولیس کا دعوی
حیدرآباد۔/2جون، ( سیاست نیوز) کمسن لڑکی کے مبینہ اغواء اور دست درازی کے معاملہ میں جوبلی ہلز پولیس نے پیشرفت کی ہے۔ چونکہ لڑکی اور خاطی لڑکوں کا تعلق الگ فرقوں سے ہے تاہم اس میں احتیاط برتتے ہوئے فرقہ وارانہ رنگ سے بچانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ مسئلہ کوئی سیاسی رنگ اختیار نہ کرسکے۔ جوبلی ہلز پولیس نے ان کاروں کی نشاندہی کرلی ہے جن میں ایک مرسیڈیز کے علاوہ ایک انووا کار بھی شامل ہے ۔ ہادی اور سورج کی جانب سے جوبلی ہلز کے پب میں پارٹی منعقد کی گئی تھی اور اس میں اس 17 سالہ متاثرہ لڑکی کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ لڑکی کے والد کی شکایت کے مطابق ہادی اور پارٹی میں ان کی لڑکی شرکت کیلئے گئی۔ شہر کے سیاسی حلقوں میں سنسنی و بے چینی کا سبب بنے اس کیس میں ملوث افراد کو بچانے کی ہر ممکن کوشش جاری ہے اور سیاسی حلقوں میں ایک طرف خاطیوں کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ شروع ہوگیا ہے تو دوسری طرف سیاسی اثر و رسوخ سے خاطی نوجوانوں کو بچانے کی ہر ممکنہ کوشش جاری ہے۔ اس معاملہ میں اے سی پی بنجارہ ہلز منتری سدرشن نے بتایا کہ پب کے ذمہ داروں سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے اور اس کیس کی ہر زاویہ سے تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عینی شاہدین کے بیانات حاصل کئے جارہے ہیں اور سی سی کیمروں کی جانچ کی جارہی ہے۔ واردات میں استعمال دونوں گاڑیوں کی تفصیلات کو حاصل کیا جارہا ہے ۔ اے سی پی نے بتایا کہ کیس کی حساس نوعیت کے لحاظ سے پولیس ہر ممکنہ احتیاطی اقدام کو اہمیت دے رہی ہے تاہم خاطیوں کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ تحقیقات میں سُست روی سے خاطیوں کی فراری کے خدشات پر اے سی پی نے کہا کہ جرم ثابت ہونے اور قصوروار پائے جانے پر خاطیوں کو بخشا نہیں جائیگا ۔ سیاسی و رئیس سیاسی گھرانوں کے بگڑے نامعلوم لڑکوں پر متاثرہ لڑکی کا اغواء اور مبینہ دست درازی کے الزامات ہیں۔ پولیس نے لڑکی کو کل بھروسہ سنٹر منتقل کیا تھا اور بیان لیا گیا ۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔ع