حکومت کو ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف اپیل کرنی چاہئے ۔ ایم پی کرن کمار ریڈی
حیدرآباد۔28 جولائی(سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ چاملہ کرن کمار ریڈی نے کمشنر ’حیڈرا‘ اے وی رنگا ناتھ کو ہٹائے جانے سے آؤٹر رنگ روڈ حدود میں لینڈ گرابرس کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ انہوں نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکامات پر ردعمل میں کہا کہ حکومت کو اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرکے اے وی رنگاناتھ کی برقراری کو یقینی بنانا چاہئے تاکہ لینڈ گرابرس کے دلوں میں جو ’حیڈرا‘ کا خوف ہے اسے برقرار رکھا جاسکے۔ مسٹر کرن کمار ریڈی نے ’حیڈرا‘ کے دعوؤں کا دفاع کیا اور کہا کہ تاحال ادارہ کے اقدامات کے نتیجہ میں 1 لاکھ 50 ہزار کروڑ کے سرکاری اثاثہ جات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسٹر رنگاناتھ کے خلاف عدالت سے رجوع ہوکر مقدمات دائر کرنے والوں میں بڑی تعداد لینڈ گرابرس کی ہے جو عدالت کو گمراہ کرکے تحقیر عدالت کے مقدمات دائر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مفادات حاصلہ جن کے مفادات کو رنگاناتھ کے رہنے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور نقصان ہورہا ہے وہ ’حیڈرا‘ اور ’حیڈرا‘ کمشنر کے خلاف کاروائی کے حق میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیاسی پشت پناہی میں سرکاری اراضیات کے قبضہ جات کی برخواستگی کیلئے جو مہم چلائی جا رہی ہے وہ درحقیقت اپوزیشن کو بوکھلاہٹ کا شکار بنائے ہوئے ہے اسی لئے وہ دوسروں کے ذریعہ ’حیڈرا‘ کو نشانہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ انہوں نے شہریان حیدرآباد سے اپیل کی کہ وہ ’حیڈرا‘ کی خدمات کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ’حیڈرا‘ نے جن علاقوں میں کاروائیاں انجام دی ہیں وہاں سرکاری اراضیات کا تحفظ کس طرح سے ممکن بنایا گیا ہے اسی طرح تالابوں کا احیاء جن علاقوں میں کیا گیا ان میں ماحولیات کو کس طرح بہتر بنایا جاسکا ہے۔ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ حکومت نے غریب و متوسط طبقہ کے عوام کو تالابوں میں اراضیات اور تعمیرات کردہ عمارتوں میں فلیٹس کی خریدی سے محفوظ رکھنے ادارہ کا قیام عمل میں لاکر عوامی و سرکاری املاک کے تحفظ و عوامی دولت کو لٹیروں سے محفوظ رکھنے اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے ’حیڈرا‘ کے کمشنر عہدہ سے اے وی رنگاناتھ کو ہٹائے جانے کی مخالفت کرکے کہا کہ حکومت کو اس معاملہ میں از سر نو غور کرکے فیصلہ کرنا چاہئے ۔3/k/b