کم عمری کی شادی کے الزام میں خاندان کے تین افراد گرفتار

   

گوہاٹی : جیسے ہی آسام میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف کارروائی کا دوسرا دور شروع ہوا، آسام پولیس نے دھوبری ضلع میں ایک نابالغ لڑکی سے شادی کرنے کے الزام میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو گرفتار کیا ہے، حکام نے تفصیلات بتائی۔ دھوبری کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نوین سنگھ نے کہا ہم نے رات تین لوگوں کو گرفتارکیا ہے۔ انہیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔پوکسو اور چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔گرفتار افراد کی شناخت شاہد الاسلام، عبدالکریم اورقاسم علی کے نام سے ہوئی ہے۔پولس کی ایک ٹیم نے ضلع کے بلاسی پاڑہ علاقے کے بھلوک پونگ گاؤں میں ایک کارروائی کی اور تینوں کو بچپن کی شادی کرانے کے الزام میں گرفتار کیا۔
پولیس افسر کے مطابق اسلام نے مبینہ طور پر دو سال قبل ایک لڑکی سے اس وقت شادی کی جب وہ صرف 14 سال کی تھی۔ دوسرا گرفتار شخص عبدالکریم شاہدورکا والد ہے جبکہ قاسم علی اس کا چچا ہے۔گرفتار افراد کو عدالت نے جیل بھیج دیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ نے پہلے کہا تھا کہ کم عمری کی شادی کے خلاف کریک ڈاؤن کا دوسرا دور اس ماہ کے آخر میں شروع ہوگا۔فروری میں ریاست بھر میں کم ازکم 5000 گرفتاریاں اس وقت ہوئیں جب آسام پولیس نے بچپن کی شادی کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم شروع کی۔ 2026 تک آسام بچوں کی شادی سے پاک ریاست بن جائے گا۔