ڈسیپلن شکنی پر پنشن آوٹ کیا گیا تھا ۔ رنجش کی وجہ سے سرقہ کی واردات انجام دی گئی ۔ ڈی جی پی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد :11 ستمبر ( سیاست نیوز) سکندرآباد بلارم کے فوجی کنٹونمنٹ میں سنسنی خیز اسلحہ چوری کے کیس میں تلنگانہ پولیس نے سابق فوجی کو گرفتار کرکے اس کے قبضہ سے مسروقہ اسلحہ برآمد کرلیا ۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس سی وی آنند نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 30 اگست کی شب سکندرآباد آرمی کنٹونمنٹ میں مدراس ریجمنٹ کے اسلحہ گودام سے عصری AK 203 ، ان ساس رائفلس 9MM آٹومیٹک پسٹول ، کارتوس اور نائٹ ویژن دوربین کا سرقہ ہوگیا تھا ۔ عصری اور قیمتی اسلحہ اچانک آرمی کنٹونمنٹ سے غائب ہونے پر فوجی حکام نے بلارم پولیس میں شکایت درج کروائی تھی جس پر پولیس نے فوری ایک ایف آئی آر درج کیا ۔ چونکہ یہ کیس انتہائی حساس نوعیت اور قومی سلامتی کا ہے جس کے نتیجہ میں ڈی جی پی سٹی پولیس کی ٹاسک فورس ، ملکاجگری کی اسپیشل آپریشن ٹیم اور محکمہ انٹلینجس‘ شعبہ کاؤنٹر انٹیلجنس سیل کو متحرک کیا گیا ۔ اس کے علاوہ ملٹری انٹلیجنس سرگرم ہوگئی اور سارق کا پتہ لگانے کوشش شروع کی گئی ۔ پولیس نے تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ موبائیل فون کی تفصیلات حاصل کی اور کنٹونمنٹ علاقہ میں کام کررہے فوجیوں و سابق فوجیوں کی فہرست حاصل کی ۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ پولیس نے تحقیقات میں شدت پیدا کرکے سابق فوجی اپوتولہ ملیش جس کی عمر 37سال ہے اور اس کا تعلق جنگام ریڈی پلی امرآباد ناگرکرنول محبوب نگر سے ہے ۔ اس کو آرمی عہدیداروں نے ڈسپلین شکنی کے نتیجہ میں پنشن آؤٹ ( برطرف ) کردیا تھا ۔ پولیس کی ٹیموں نے اس پر کڑی نظر رکھتے ہوئے اس کے موبائیل فون ریکارڈس بشمول واٹس ایپ کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے اپنے چیٹس اور کال لاگس حذف کردیئے تھے ۔ پولیس کو اس میں مزید شبہ گہرا ہونے پر ملیش کو حراست میں لے لیا گیا اور تفتیش کے دوران اُس نے بلارم مدارس ریجمنٹ 20ویں بٹالین بیل آف آرمس میں قیمتی و عصری رائفلس اور دیگر اسلحہ کے سرقہ کا انکشاف کیا ۔ اُس نے اپنے آبائی مقام یاترال اچم پیٹ کے ناگرکرنول میں خفیہ مقام پر مسروقہ اسلحہ کو زمین میں پوشیدہ رکھا تھا جہاں سے پولیس نے اسے برآمد کرلیا ۔ ڈی جی پی آنند نے بتایا کہ سابق فوجی حوالدار ملیش کی ڈسپلین شکنی پر اُسے مدراس ریجمنٹ سے برطرف کرکے پنشن آؤٹ کردیا گیا تھا اور ابتدائی تحقیقات پتہ چلا ہے کہ اُس نے فوجی عہدیداروں سے رنجش پر یہ سرقہ کیا تھا ۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ بلارم مدراس ریجمنٹ سے رات کے اوقات اپنی کار میں مسروقہ اسلحہ کو آبائی مقام منتقل کیا تھا جہاں سے پولیس نے اسے برآمد کرلیا ۔ ڈی جی پی نے کیس کی تحقیقات میں مستعدی کا مظاہرہ کرکے کامیابی پانے والے پولیس ملازمین کی ستائش کی اور بتایا کہ مزید تحقیقات کو جاری رکھا جائیگا تاکہ حقائق کا پتہ لگایا جاسکے ۔ ب