کوئلہ کی کانکنی کے شعبہ میں چین کی کمپنیوں نے زائد سرمایہ کاری کی

   

ہندوستانی کمپنی کول انڈیا کی سرمایہ کاری 26 بلین ڈالر، آسٹریلیا اور امریکہ کے اداروں کی نمایاں سرمایہ کاری
حیدرآباد۔16 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) عالمی سطح پر موسمی تبدیلی اور ایل نینو کے اثرات نے برقی شعبہ پر منفی نتائج مرتب کئے ہیں جس کے نتیجہ میں کئی ممالک نے برقی پیداوار پر توجہ مرکوز کی ہے۔ برقی کے شعبہ میں اگرچہ تیاری کے ذرائع مختلف ہیں لیکن کوئلہ کے استعمال سے برقی کی تیاری کو بیشتر ممالک نے اختیار کیا ہے جو دیگر ذرائع کے مقابلہ آسان تصور کیا جاتا ہے۔ حالیہ عرصہ میں دنیا بھر میں کوئلہ کانکنی کے شعبہ میں کئی بین الاقوامی اداروں نے دلچسپی دکھائی ہے ۔ عالمی سطح پر کوئلہ کی کانکنی میں چین اور سوئٹزرلینڈ کی کمپنیوں کو سبقت حاصل ہے۔ کوئلہ کی کانکنی میں مارکٹ سرمایہ کاری کے اعتبار سے دنیا کی 10 مختلف کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی، ان میں ہندوستان کی کول انڈیا لمٹیڈ کو چوتھا مقام حاصل ہوا ہے۔ چین کی کمپنی کی مارکٹ سرمایہ کاری 155.20 بلین ڈالر ریکارڈ کی گئی جبکہ سوئٹزرلینڈ کی گلین کور کمپنی 88.64 بلین ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ چین کی ایک اور کمپنی این کوانگ اینرجی گروپ نے اس شعبہ میں 29.76 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعہ تیسرا مقام حاصل کیا ہے۔ عالمی سطح پر کوئلہ کی کانکنی میں سرمایہ کاری کے اعتبار سے کول انڈیا لمٹیڈ نے 26.02 بلین ڈالر کے ساتھ چوتھا مقام حاصل کیا ہے۔ اس فہرست میں آسٹریلیا ، امریکہ اور انڈونیشیا کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کوئلہ کی کانکنی میں آسٹریلیا کی تین کمپنیوں نے بہتر سرمایہ کاری کی ہے جبکہ چین اور امریکہ کی علی الترتیب 2 کمپنیاں اس شعبہ میں نمایاں مقام حاصل کرچکی ہیں۔ ان کمپنیوں کی سرمایہ کاری 4 تا 12 بلین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ ہندوستان میں ال نینو کے اثرات سے نمٹنے کیلئے حکومت نے برقی پراجکٹس کو کوئلہ کی سربراہی پر توجہ مرکوز کی ہے۔ تلنگانہ کے یادادری تھرمل پاور پراجکٹ کے لئے دیگر ریاستوں سے کوئلہ کے حصول کی مساعی کی جارہی ہے۔ ال نینو کے اثرات کے نتیجہ میں کئی ممالک میں برقی اور پانی کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔1/k/m/b