کورونا وباء کم ہونے پر نواحی علاقوں میں کرایہ داروں کی دوبارہ آمد

   

حیدرآباد۔6اپریل۔(سیاست نیوز) شہر کے نواحی علاقوں مادھا پور‘ ہائی ٹیک سٹی ‘ نارسنگی ‘ جوبلی ہلز ‘ ایس آر نگر ‘ بیگم پیٹ کے علاوہ اپل‘ عنبرپیٹ‘ ملکاجگری ‘ کومپلی ‘ کنڈہ پور‘ کوکٹ پلی کے علاقوں میں کرایہ داروں کی دوبارہ آمد کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور اس کے علاوہ بیاچلراپارٹمنٹس بھی کرایہ پر جانے لگے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ورک فرم ہوم کلچر کے خاتمہ اور مکمل حاضری کو یقینی بنانے کے اقدام پر اضلاع اور ملک کی دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین دوبارہ حیدرآباد واپس ہونے لگے ہیں جس کے سبب کرایہ کے مکانات کی مانگ میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ مارچ 2020میں پہلے لاک ڈاؤن کے دو ماہ بعد غیر یقینی صورتحال اور آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے گھر سے کام کاج کی سہولت فراہم کئے جانے کا فیصلہ کئے جانے کے بعد زائد از80فیصد بیرونی ملازمین آبائی مقامات کو واپس ہوگئے اور مکانات خالی کردیئے تھے، لیکن اب وہ واپس ہونے لگے ہیں لیکن دو برسوں سے کئی عمارتوں کے مخلوعہ رہنے کے سبب کرایہ میں اضافہ نہیں دیکھا جا رہاہے۔ رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کا کہناہے کہ جاریہ ماہ کے اوائل سے ہی کرایہ پر فلیٹس اور مکانات کی مانگ میں اضافہ ہونے لگا ہے۔م
اوراب صورتحال 2020سے قبل جو ہوا کرتی تھی ویسی نظر آرہی ہے کیونکہ آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے گھر سے کام کاج کی سہولت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے اور اب ملازمین کسی دفتر کے ڈیسک سے بھی کام نہیں کرپائیں گے بلکہ انہیں اپنی کمپنی میں پہنچ کرخدمات انجام دینی ہوگی تو وہ دوبارہ اپنی ملازمت کی جگہ سے قریب گرہستی آباد کرنے کی کوشش کرنے لگے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ اپریل 2020 کے اختتام تک کونڈا پور‘ ہائی ٹیک سٹی ‘ نارسنگی ‘ کوکٹ پلی ‘ اپل اور ناچارم کے علاقوں میں زائد از 10ہزار فلیٹس میں موجود کرایہ داروں نے تخلیہ کیا تھا ۔جبکہ مادھا پور‘ ٹولی چوکی ‘ جوبلی ہلز‘ شیر لنگم پلی کے علاقو ںمیں 7ہزار فلیٹس کے علاوہ کئی مکانات میں مقیم بیچلرس نے تخلیہ کیا تھا لیکن اب وہ تمام واپس ہونے لگے ہیں لیکن گذشتہ دو برسوں کے دوران کرایہ داروں کی عدم موجودگی کے سبب کرایہ میں کسی قسم کا اضافہ ریکارڈ نہیں کیاگیا ہے بلکہ بیشتر جائیدادوں میں ان کے اپنے پرانے کرایہ دار ہی قیام کے لئے پہنچ رہے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ کرایہ کے فلیٹس اور مکانات کی طلب میں کورونا وائر س سے قبل کی طرح تیزی ریکارڈ کی جانے لگی ہے ۔م