کولکاتا تشدد میں 4 افراد گرفتار

   

کولکاتا: مغربی بنگال کے شہر کولکاتا میں گزشتہ روز بی جے پی کی ریلی کے دوران ایک پولیس افسر پر حملہ کرنے اور پولیس کی گاڑی کو آگ لگانے کے الزام میں کم از کم چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔آج ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں مختلف علاقوں میں رات بھر چھاپوں کے بعد کی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس دیب جیت چٹوپادھیائے کا کل بی جے پی کے نبنا مارچ کے دوران کچھ لوگوں نے پیچھا کیا اور لاٹھیوں سے حملہ کیا تھا۔ لال بازار میں کولکتہ پولیس ہیڈکوارٹر کے قریب پولیس کی ایک گاڑی کو بھی نذر آتش کیا گیاتھا۔
کولکتہ پولیس کے ایک اہلکار نے اس واقعہ کی تفصیلات بتایا اور کہا کہ چھاپے ابھی بھی جاری ہیں۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ دونوں واقعات کے ویڈیو کلپس کی بنیاد پر چار ملزمان کی شناخت کی گئی ہے اور انہیں گرفتار کیا گیاہے۔پولیس اہلکار کے مطابق ان کے خلاف قتل کی کوشش، سرکاری املاک کو تباہ کرنے اور سرکاری ملازم کو ڈیوٹی کرنے سے روکنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چٹوپادھیائے کو کئی جگہوں پر فریکچر ہوا ہے اور وہ دواخانہ میں زیر علاج ہیں۔بی جے پی کے قومی نائب صدر دلیپ گھوش نے الزام لگایا کہ یہ حملہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے حامیوں نے کیا جو ریلی میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہمارے کارکنوں کو پھنسایا جا رہا ہے اور ان پر جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ترنمول کانگریس کے ایم پی مہوا موئترا نے کہاکیا ہوتا اگر مغربی بنگال حکومت اتر پردیش کے ماڈل کو اپناتی اور سرکاری املاک کو تباہ کرنے والے بی جے پی کارکنوں کے گھروں پر بلڈوزر بھیجتی۔