کانگریس ہائی کمان کا واضح موقف، پارٹی میں 4 نشستوں کیلئے دعویداروں کی کثرت کے سبب فیصلہ
حیدرآباد 7 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس ہائی کمان نے واضح کردیا ہے کہ ایم ایل اے کوٹہ کی 5 ایم ایل سی نشستوں کے انتخابات میں سی پی آئی اور مجلس کو نشستیں الاٹ نہیں کی جائیں گی۔ سی پی آئی اور مجلس کی قیادت نے چیف منسٹر ریونت ریڈی اور صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ سے درخواست کی ہے کہ اُنھیں ایک ایک نشست الاٹ کی جائے۔ اسمبلی انتخابات سے قبل سی پی آئی کو ایک سے زائد نشست پر مقابلہ سے روکنے کے لئے کونسل کی 2 نشستیں الاٹ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ حکومت کے 15 ماہ کی تکمیل کے دوران یہ پہلا موقع ہے جب بیک وقت 5 ایم ایل سی نشستوں کے انتخابات ہورہے ہیں۔ 29 مارچ کو جن 5 ایم ایل سیز کی میعاد ختم ہورہی ہے اُن میں 4 کا تعلق اور ایک کا مجلس سے ہے۔ سی پی آئی نے انتخابی معاہدہ کے تحت اِس مرتبہ ایک نشست الاٹ کرنے کی درخواست کی ہے۔ دوسری طرف مجلس چاہتی ہے کہ اُنھیں ایم ایل اے کوٹہ کے تحت ایک نشست الاٹ کی جائے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اِس معاملہ کو ہائی کمان سے رجوع کیا اور پارٹی میں ایم ایل سی نشست کے دعویداروں کی کثیر تعداد کو دیکھتے ہوئے ہائی کمان نے اِس موقع پر صرف کانگریس قائدین کو موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سی پی آئی قائدین کو تیقن دیا گیا کہ آئندہ ایم ایل اے کوٹہ کی نشستوں میں نمائندگی دی جائے گی۔ کانگریس نے مجلس کو ایم ایل اے کوٹہ کے بجائے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی مجالس مقامی ایم ایل سی نشست الاٹ کرنے سے اتفاق کیا ہے تاکہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن پر قبضہ کیا جاسکے۔ کانگریس ہائی کمان کا کہنا ہے کہ حکومت کی 5 سالہ میعاد میں ایم ایل سی الیکشن کے مزید 2 مواقع حاصل ہوں گے اس موقع پر سی پی آئی کو نشست الاٹ کی جاسکتی ہے۔ سی پی آئی قائدین کا ماننا ہے کہ انتخابی معاہدہ کے تحت کم از کم ایک نمائندگی دی جاتی ہے تو کونسل میں سی پی آئی داخل ہوپائے گی۔ گورنر کوٹہ کی 2 نشستوں کی میعاد بھی آئندہ سال ختم ہورہی ہے۔ ایم ایل اے کوٹہ یا پھر گورنر کوٹہ کی نشستوں میں سی پی آئی کو نمائندگی کا تیقن دیا گیا ہے۔ کونسل کے انتخابات کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 10 مارچ ہے اور کانگریس پارٹی میں کونسل کے خواہشمندوں کی کثیر تعداد نئی دہلی میں کیمپ کئے ہوئے ہے تاکہ ہائی کمان کو نشست کے لئے راضی کیا جائے۔ 1