پرچہ جات کی آج جانچ، متفقہ انتخاب یقینی، ریونت ریڈی، بھٹی وکرامارکا، عامر علی خاں اور دوسروں کی شرکت
حیدرآباد 10 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ایم ایل اے کوٹہ کی 5 ایم ایل سی نشستوں کے لئے پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کا مرحلہ آج مکمل ہوگیا۔ کانگریس پارٹی کے 3 اور سی پی آئی اور بی آر ایس کے ایک ایک امیدوار نے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کردیا۔ پرچہ نامزدگی کے ادخال کا آج آخری دن تھا اور صرف 5 پرچہ جات کے ادخال سے تمام امیدواروں کے متفقہ انتخاب کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔ کانگریس امیدواروں ادنکی دیاکر، شنکر نائک اور وجئے شانتی نے احاطہ اسمبلی میں ریٹرننگ آفیسر کو اپنے پرچہ جات نامزدگی حوالہ کئے۔ اِس موقع پر چیف منسٹر ریونت ریڈی، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ، ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی، دامودر راج نرسمہا، پی سرینواس ریڈی، ڈی سریدھر بابو، رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خان، گورنمنٹ وہپ ای سرینواس کے علاوہ ارکان اسمبلی و کونسل کی کثیر تعداد شریک تھی۔ پرچہ نامزدگی کے ادخال سے قبل کانگریس لیجسلیچر پارٹی آفس میں چیف منسٹر ریونت ریڈی اور وزراء نے کانگریس امیدواروں کے پرچہ جات نامزدگی پر دستخط کئے۔ اسمبلی انتخابات کے موقع پر سی پی آئی سے کئے گئے معاہدہ کے مطابق ایم ایل سی کی ایک نشست الاٹ کی گئی اور سی پی آئی امیدوار این ستیم نے پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ بی آر ایس امیدوار ڈاکٹر ڈی شراون نے پارٹی قائدین کی موجودگی میں پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ شراون نے پرچہ جات کے 2 سیٹ پیش کئے۔ اِس موقع پر بی آر ایس کی ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ، قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن مدھو سدن چاری، ارکان اسمبلی ہریش راؤ، پرشانت ریڈی، سرینواس یادو، ملا ریڈی اور دیگر قائدین موجود تھے۔ پرچہ نامزدگی کے ادخال کے موقع پر احاطہ اسمبلی میں جشن کا ماحول تھا۔ کانگریس، بی آر ایس اور سی پی آئی کے کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے اور پارٹی امیدواروں کو مبارکباد پیش کررہے تھے۔ کانگریس امیدواروں وجئے شانتی، ادنکی دیاکر اور شنکر نائک نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے پارٹی کی جانب سے اُنھیں امیدوار بنائے جانے پر اظہار تشکر کیا۔ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق کل 11 مارچ کو پرچہ جات نامزدگی کی جانچ کی جائے گی اور 13 مارچ تک نام واپس لئے جاسکتے ہیں۔ نام واپس لینے کی تاریخ کے دن پانچوں نشستوں پر امیدواروں کے متفقہ انتخاب کا اعلان کردیا جائے گا۔ کونسل کی 5 نشستوں پر انتخابات جن ارکان کی میعاد کی تکمیل کے باعث ہورہے ہیں اُن میں محمد محمود علی، ستیہ وتی راتھوڑ، ایس سبھاش ریڈی، وائی ملیشم (تمام بی آر ایس) اور مرزا ریاض الحسن آفندی (مجلس) شامل ہیں۔ کانگریس پارٹی نے انتخابی معاہدہ کے تحت سی پی آئی کو ایک نشست الاٹ کی ہے جبکہ مجلس کو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں مجالس مقامی کی نشست الاٹ کرنے کا تیقن دیا گیا۔ کونسل کی نشستوں کے لئے دونوں پارٹیوں میں کئی دعویدار تھے لیکن کانگریس ہائی کمان اور بی آر ایس سربراہ کے سی آر نے امیدواروں کے انتخاب کے ذریعہ سیاسی حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ کونسل کی ایک نشست پر کامیابی کے لئے 21 ارکان کی تائید ضروری ہے۔ کانگریس اپنی حلیف پارٹیوں کے ساتھ 4 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے موقف میں ہے جبکہ بی آر ایس نے 38 ارکان کے باوجود محض ایک ہی نشست پر مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے۔1