کوویڈ پابندیوں کیخلاف چین کے کئی شہروں میں مظاہرے

   


احتجاجیوں کا صدر ژی جن پنگ سے استعفیٰ کا مطالبہ

بیجنگ : چین میں کووڈ پابندیوں کی وجہ سے حکومت مخالف مظاہرے 7 شہروں تک پھیل گئے ہیں۔ کمیونسٹ ملک میں صدر ژی جن پنگ کی پالیسیوں کے خلاف یہ مظاہرے غیر معمولی اہمیت کے حامل قرار دیے جا رہے ہیں۔بیجنگ، شنگھائی اور ووہان سمیت کئی شہروں میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ صدر ژی جن پنگ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ چین میں کووڈ پابندیوں کے خلاف عوامی ردعمل شدید ہوتا جا رہا ہے۔صدر ژی جن پنگ نے کووڈ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے انتہائی سخت پالیسی اختیار کی ہے، جس کے تحت لاک ڈاؤن اور لوگوں کو گھروں تک محدود بھی کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی کووڈ پالیسی کے خلاف ‘زیرو برداشت‘ کی وجہ سے لوگوں کی اقتصادی مشکلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔چینی حکمران کمیونسٹ پارٹی کا ملک پر کنٹرول انتہائی سخت ہے، جہاں شخصی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں چینی حکومت کے خلاف اس طرح کے مظاہروں کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔چین کے کمرشل دارالحکومت شنگھائی میں ہونے والے ایک مظاہرے میں لوگوں نے نعرے لگائے کہ صدر ژی جن پنگ اور چینی کیمونسٹ پارٹی (سی سی پی) اقتدار سے الگ ہو جائیں۔مظاہرے میں شریک شاؤن ڑی آؤ نے بتایا کہ میں آزادانہ طور پر حرکت کرنا چاہتا ہوں لیکن حکومت کی سخت کووڈ پالیسی کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں رہا ہے۔ اس پالیسی میں کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ صرف ایک ڈرامہ ہے۔‘‘احتجاجی ریلیوں کے دوران خالی صفحے اور بینزر بھی اٹھا رکھے تھے، جو دراصل چینی سنسر شپ کے خلاف ایک علامتی احتجاج ہے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق پیر کے دن شنگھائی میں پولیس نے دو مزید مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔ میڈیا کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش بھی کی۔ اتوار کے دن بھی پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا۔لوگوں کی طرف سے بنائی گئی مظاہروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں لیکن چین میں ایسی ویڈیوز اور خبروں کو سنسر کیا جا رہا ہے۔ ایسی طلاعات ہیں کہ شنگھائی کے مرکزی بازار میں پولیس نے مظاہرین پر ‘پیپر سپرے‘ بھی کیا، جس کی وجہ سے مظاہرین وہاں سے فرار ہو گئے لیکن کچھ دیر بعد وہاں پھر سے لوگوں کاہجوم دیکھا گیا۔