بنگلورو، 18 اپریل (ایجنسیز) ہندوستان کے سابق کپتان ویراٹ کوہلی کی انسٹاگرام لائیک پر مداحوں کا ردعمل ظاہر ہونے کے بعد جرمن انفلوئنسر لزلیز کا بیان بھی سامنے آگیا ہے۔ انڈین کرکٹ اسٹار کوہلی ایک بار پھر انسٹاگرام پر تصویر لائیک کرنے کے باعث سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ دراصل، کوہلی نے ایک جرمن انفلوئنسر لزلیز کی تصاویر پر مبنی پوسٹ کو لائک کیا جس میں ہندوستانی فوٹوگرافر ادویت ویدیا بھی ٹیگ تھے۔ چونکہ کوہلی اس انفلوئنسر کو فالو نہیں کرتے اس لیے یہ معاملہ فوری طور پر توجہ کا مرکز بن گیا اور چند ہی لمحوں میں اس کے اسکرین شاٹس وائرل ہو گئے۔ رپورٹس کے مطابق کوہلی نے مختصر وقت کے لیے انفلوئنسر کی پوسٹ کو لائیک کیا، جسے بعد میں فوراً ہٹا دیا گیا۔ اگرچہ یہ لائیک زیادہ دیر برقرار نہیں رہی، لیکن اس کے اسکرین شاٹس آن لائن وائرل ہو گئے، جس کے بعد مختلف پلیٹ فارمز پر قیاس آرائیاں اور میمز بننے لگیں۔ فوٹوگرافر ویدیا نے خود پوسٹ اپنے انسٹاگرام پر کوہلی کے لائیک کا اسکرین شاٹ شیئر کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس لائیک کا موازنہ 2025 کے ایک ایسے ہی معاملے سے کیا جا رہا ہے، جب کوہلی کے اکاؤنٹ کی جانب سے اداکارہ و انفلوئنسر اونیت کور کی پوسٹ کو لائیک کرنے کی خبر سامنے آئی تھی۔ کوہلی نے اس پر اپنے وضاحتی بیان میں کہا، ’’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اپنی فیڈ صاف کرتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ الگورتھم نے غلطی سے ایک انٹریکشن رجسٹر کر لیا، اس کے پیچھے کوئی ارادہ نہیں تھا، براہِ کرم غیر ضروری قیاس آرائیاں نہ کی جائیں‘‘۔ دوسری جانب، میڈیا سے خصوصی گفتگو میں جرمن انفلوئنسر نے کہا کہ شروع میں وہ خوش ہوئیں، لیکن بعد میں اس بات پر عجیب محسوس ہوا کہ یہ معاملہ اتنی تیزی سے وائرل ہو گیا۔ بعد میں مجھے افسوس بھی ہوا۔ جب ویراٹ کوہلی نے اسے اَن لائیک کیا تو مجھے اُن کے لیے برا لگا، کیونکہ مجھے نہیں معلوم یہ اتنی بڑی خبر کیسے بن گئی۔ پتہ نہیں لوگوں نے کیسے نوٹ کیا اور اسے خبر بنا دیا۔ شاید ان (کوہلی) کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن پھر بھی میں اس پر شکر گزار ہوں اور ان کی سپورٹ کو سراہتی ہوں۔