کچرے کو بیکار نہیں، نئے وسائل کے طور پر استعمال کریں:وزیر جنگلات

   

نئی دہلی، 15 ستمبر (یو این آئی) ماحولیات ، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر بھوپیندر یادو نے کہا ہے کہ کچرے کو کسی پروڈکٹ کے سفر کا اختتام نہیں بلکہ نئے وسائل کی شروعات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور ترقی کو زیادہ وسائل سے لیس، لچکدار نیز پائیدار بنانے کی خاطر سرکولر اکانومی کو فروغ دینا چاہیے ۔ بھوپیندر یادو نے منگل کے روز گاندھی نگر میں ورلڈ سرکولر اکانومی فورم (ڈبلیو سی ای ایف) 2026ء کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ کسی چیز کو بدلنے سے پہلے اس کی مرمت، پھینکنے سے پہلے دوبارہ استعمال اور کچرے کے طور پر چھوڑنے سے پہلے ری سائیکلنگ کی روایت ہندوستانی طرزِ زندگی کا حصہ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف قوانین بنانے سے سرکولر اکانومی کی تعمیر نہیں ہو سکتی اور اس کی شروعات لوگوں کے استعمال کرنے کے طریقے سے بھی ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکولر اکانومی قدرتی طور پر باہمی تعاون پر مبنی ہے اور اس کے لیے علم، ٹیکنالوجی، مالیات نیز ذمہ داری کو ایک ملک سے دوسرے ملک اور مختلف شعبوں کے درمیان مشترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال اگست تک مختلف ایکسٹینڈڈ پروڈیوسر رسپانسبلٹی (ای پی آر) فریم ورکس کے تحت 83,000 سے زائد پروڈیوسرز اور 4,802 ری سائیکلرز رجسٹرڈ تھے نیز تقریباً 482.24 لاکھ ٹن ریگولیٹڈ کچرے کی پروسیسنگ کی گئی۔ اس موقع پر موجود گجرات کے وزیراعلیٰ بھوپیندر بھائی پٹیل نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پہلی بار ورلڈ سرکولر اکانومی فورم کا انعقاد ہندوستان کی بڑھتی ہوئی عالمی قیادت کو ظاہر کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ’مشن لائف‘ عالمی سرکولر اکانومی کے سنگِ بنیاد کے طور پر ابھر رہا ہے اور اس پلیٹ فارم کو وسودھیو کٹمبکم کے جذبے کے عین مطابق دنیا کے لیے عملی سرکولر حل تیار کرنے چاہئیں۔

بھوپیندر بھائی پٹیل نے کہا کہ گجرات میں وسائل کے دوبارہ استعمال اور کچرے سے کارآمد اشیاء بنانے کی روایت طویل عرصے سے رہی ہے ۔ انہوں نے سومناتھ مندر میں چڑھائی جانے والی اشیاء کی ری سائیکلنگ سے کارآمد وسائل اور روزگار پیدا کرنے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دوبارہ استعمال اور ‘کچرے سے دولت’ کی سوچ ہندوستانی روایت کا حصہ رہی ہے ۔