کچھ تو بولو ، منہ کھولو سے سر ، سر ، سر تک…

   

حیدرآباد۔9۔جون۔(سیاست نیوز) جناب محمد اظہر الدین ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کو جب غصہ آیا تو وہ رکن قانون ساز کونسل جناب مرزارحمت بیگ پر برہم ہوگئے ۔ محرم الحرام کی تیاریوں کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس کے آغاز میں مجلسی اراکین کی ہنگامہ آرائی کے دوران رکن قانون ساز کونسل مرزا رحمت بیگ نے ’ریمارک‘ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ارے یارو منہ کھولو ‘ کچھ تو بولو‘‘۔ رکن قانون ساز کونسل کے اس جملہ کے ساتھ ہی وزیر اقلیتی بہبود شدید برہم ہوگئے اور انہوں نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رکن قانون ساز کونسل کو کہا کہ وہ اپنا لہجہ درست کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ اس طرح کی گفتگو کرتے ہیں اور نہ ہی اس طرح کی گفتگو کو پسند کرتے ہیں۔ اس لفظی تکرار کے دوران رکن قانون ساز کونسل کو اچانک فون موصول ہوا ۔ وہ فون لینے کے لئے اجلاس کے باہر چلے گئے اور ساتھ ہی دیگر اراکین اسمبلی بھی اجلاس سے باہر جانے کے بعد فون پر بات چیت کی اور جب دوبارہ مجلسی اراکین اسمبلی و قانون ساز کونسل اجلاس میں واپس پہنچے تو ان سب کا لہجہ تبدیل ہوچکا تھا ۔ مرزارحمت بیگ فون پر ہدایات موصول ہونے کے بعد اجلاس کے اختتام تک وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین کو ’سر‘ ’سر‘ سے مخاطب کرتے رہے۔ مجلسی رکن قانون ساز کونسل کی اس طرح کی گفتگو کئی عوامی تقاریب کے علاوہ عہدیداروں کے آگے مجلسی قیادت کی ساکھ متاثر کرنے کا سبب بن رہی ہے۔3