کیاب ڈرائیورس و فوڈ ڈیلیوری بوائز کو مشکلات و ہراسانی کا سامنا

   

’ پیغام ‘ نامی تنظیم کا مختلف شہروں میں سروے ۔ عوام میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش
حیدرآباد۔13۔مارچ(سیاست نیوز) کیاب ڈرائیور اور فوڈ ڈیلیوری بوائز مشکل حالات کا سامنا کرکے مختلف مقامات پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہیں جس طرح کی مشکلات کا سامنا ہے وہ دیگر شعبہ جات میں نوجوانوں کی مشکلات سے مختلف ہیں۔ ہندوستان کے شہروں دہلی ‘ جئے پور‘ اندور‘ لکھنؤ ‘ کولکتہ ‘ ممبئی ‘ بنگلورو اور حیدرآباد کے 10 ہزار سے زائد اس شعبہ سے وابستہ افراد کے سروے کے بعد ’پیغام‘ نامی تنظیم کے ذمہ داروں نے جو رپورٹ جاری کی اس کے مطابق ڈیلیوری بوائز نے جو اس سروے میں حصہ لیا ان کے مطابق 41 فیصد سے زیادہ نوجوان اپنے صارفین اور گاہکوں کی ہراسانی کا شکار ہیں۔ مہاراشٹرا کے پونے میں ڈیلیوری بوائے کو ہوا میں فائرنگ کرکے خوفزدہ کیا گیا تھا اس کے علاوہ مختلف مقامات پر ڈیلیوری بوائز پر حملوں کے واقعات نئی بات نہیں ہیں بلکہ کم وقت میں تیز رفتار ڈیلیوری کے نام پر کمپنیوں کے دعوؤں کا شکار ڈیلیوری بوائز ہونے لگے ہیں جن کی شکایات پر عام طور پر کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ اسی طرح کی صورتحال کیاب ڈرائیورس کی ہے جو کہ 12 تا 15 گھنٹے کام کے باوجود ماہانہ 15تا18 ہزار کمانے کے متحمل نہیں ہیں کیونکہ ان کے اخراجات میں بتدریج اضافہ کے علاوہ ان کی صحت میں بھی گراوٹ آرہی ہے۔ کیاب ڈرائیورس کے مسائل ڈیلیوری بوائز کے مسائل سے مختلف ہیں اور وہ ان کے حل کیلئے ڈاکٹرس کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں کیونکہ مسلسل کیاب چلانے کے سبب وہ اعضاء شکنی ‘ ذہنی تنائو و گھٹنوں اور پیروں میں درد کا سامنا کر رہے ہیں ۔ کیاب ڈرائیورس اور ڈیلیوری بوائز کے مسائل کا سروے کرنے والی تنظیم کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ سروے کا مقصد عوام میںان کے مسائل کے متعلق شعور اجاگر کرکے انہیں سے واقف کروایا جائے کہ کس طرح کے مسائل کا ان افراد کو سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان شعبوں سے وابستہ رہ کر افراد خانہ کی پرورش کرتے ہیں اور بعض افراد کی حرکتوں سے ڈیلیوری بوائز کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔3