2000 کروڑ سے نئی منصوبہ بندی، عثمان ساگر اور حمایت ساگر کو ملنا ساگر سے پانی کی منتقلی، موسی ریور فرنٹ پراجکٹ میں مدد ملے گی
حیدرآباد۔/6نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے سابق بی آر ایس حکومت کے ایک فیصلہ کو منسوخ کردیا ہے۔ دریائے گوداوری سے حیدرآباد کو پانی کی سربراہی کے مرحلہ II کے تحت حیدرآباد کے مضافات میں کیشو پورم ذخیرہ آب کی تعمیر کا فیصلہ کیا تھا۔ تلنگانہ حکومت نے بی آر ایس حکومت کے اس فیصلہ کو منسوخ کرتے ہوئے احکامات جاری کئے ہیں۔ دریائے گوداوری کا پانی کونڈا پوچماں ساگر سے کیشو پورم ذخیرہ آب منتقل کرنے کا منصوبہ تھا تاکہ حیدرآباد کو پینے کا پانی سربراہ کیا جاسکے۔ سابق بی آر ایس حکومت نے ذخیرہ آب کی تعمیر اور حیدرآباد کو سربراہی آب کا ڈیزائن تیار کیا تھا۔ ریونت ریڈی حکومت نے تعمیری کاموں کے کنٹراکٹ کو منسوخ کرتے ہوئے محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے احکامات جاری کئے۔ انجینئرنگ ڈیویژن نے کنٹراکٹ کی منسوخی سے متعلق جی او جاری کیا۔ اس فیصلہ سے سرکاری خزانہ پر 2 ہزار کروڑ کا بوجھ کم ہوجائے گا اور ریونت ریڈی حکومت اسی خرچ سے گوداوری مرحلہ II اسکیم پر عمل آوری کا ارادہ رکھتی ہے۔ نئی حکومت کے منصوبہ کے تحت ملنا ساگر سے شہر کو پانی سربراہ کرنے والے ذخائر آب عثمان ساگر اور حمایت ساگر کو پانی سربراہ کیا جائے گا۔ حکومت اس منصوبہ کے تحت گریٹر حیدرآباد کی پانی کی ضرورتوں کی تکمیل کا ارادہ رکھتی ہے۔ ملنا ساگر سے عثمان ساگر اور حمایت ساگر کو پانی کی سربراہی کے نتیجہ میں موسی ریور فرنٹ پراجکٹ پر عمل آوری کی راہ ہموار ہوگی کیونکہ حکومت اس پراجکٹ کے ذریعہ بھونگیر اور نلگنڈہ تک آبی اور آبپاشی ضرورتوں کی تکمیل کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ریاستی حکومت نے حال ہی میں پراجکٹ کو منظوری دی ہے جس کے تحت حیدرآباد کو 10 ٹی ایم سی پانی سربراہ کرنے کے علاوہ دونوں ذخائر آب کیلئے 5 ٹی ایم سی پانی ملنا ساگر سے سربراہ کیا جائے گا۔ جملہ 15 ٹی ایم سی پانی کی تقسیم کیلئے کابینہ نے پراجکٹ کو منظوری دی ہے۔ پراجکٹ کیلئے عنقریب ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کے عہدیداروں کو ٹنڈرس طلب کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سابق ٹنڈر کے مطابق ایلم پلی سے آنے والے دریائے گوداوری کے پانی کو ملنا ساگر اور پھر وہاں سے کونڈا پوچماں ساگر منتقل کرنے کی تجویز تھی۔ وہاں سے لفٹ اسکیم کے تحت پانی حاصل کرتے ہوئے کیشو پورم ذخیرہ آب کو منتقل کرنے کا منصوبہ تھا۔ کیشوا پورم کو 5 ٹی ایم سی پانی کے ذخیرہ کی گنجائش میں تبدیل کیا جارہا تھا۔ وہاں سے حیدرآباد کو سربراہی آب کی تجویز تھی۔ حیدرآباد میں پانی کی سربراہی کے مسئلہ کو مستقل حل کرنے کیلئے 10 ٹی ایم سی کی ضرورت محسوس کی گئی اور بی آر ایس حکومت کے زوال کے بعد پراجکٹ پر کام روک دیا گیا تھا۔ سابق حکومت نے پراجکٹ کیلئے اراضی کے حصول کا مرحلہ مکمل کرلیا تھا۔ عہدیداروں کے مطابق ذخیرہ آب کے منصوبہ میں نقائص کے سبب اسے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سابق حکومت نے جنگلات اور محکمہ دفاع کی اراضیات کو حاصل کرتے ہوئے پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ریونت ریڈی حکومت نے حیدرآباد کے دونوں ذخائر آب عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے احیاء کے علاوہ موسیٰ ندی میں پانی کے مستقل بہاؤ کی منصوبہ بندی کی ہے یہی وجہ ہے کہ کیشوا پورم ذخیرہ آب کی تعمیر کے کنٹراکٹ کو منسوخ کردیا گیا۔1