کیف میں پھنسے ہوئے ہندوستانی اسٹوڈنٹس سے سفر کے لئے ریلوے اسٹیشن منتقل ہونے کا استفسار

,

   

نئی دہلی۔ یوکرین کے ہندوستانی سفارت خانہ نے پیر کے روزکیف میں پھنسے ہوئے اسٹوڈنٹس سے استفار کیاکہ جنگ زدہ ملک کے مغربی حصہ کی طرف سفر کے لئے وہ یوکرین کی درالحکومت میں ریلوے اسٹیشن پر پہنچیں۔

انہوں نے کہاکہ کیف میں ہفتہ کے اختتام کا کرفیو اب ختم ہوگیا ہے اور شہر سے باہر جانے کے لئے ریلوے اسٹیشن پر پہنچیں۔ مذکورہ سفارت خانہ ٹوئٹ کیاکہ”کیف میں ہفتہ کے اختتام کاکرفیو ہٹادیاگیا ہے۔

تمام اسٹوڈنٹس کو مشورہ دیاجاتا ہے کہ وہ مغربی حصوں کی طرف اپنا سفر جاری رکھنے کے لئے ریلوے اسٹیشن پر پہنچیں۔

انخلاء کے لئے یوکرین ریلویم نے خصوصی ٹرینیں چلانے کاکام کیاہے“۔ خارجی وزیر ایس جئے شنکر نے درایں اثناء کہا ہے کہ چھ پروازیں دہلی سے بدھاپیسٹ کی طرف240ہندوستانیوں کے ساتھ ”اپریشن گنگا“ کے تحت انخلاء مشن کے لئے روانہ ہوگئی ہیں

۔ انہوں نے ٹوئٹ کیاکہ”چط اپریشن گنگا کی پروازیں بدھاپیسٹ سے دہلی کے لئے 240ہندوستاننیوں کے ساتھ“۔

خارجی سکریٹری ہرش وردھن شرنگلی نے اتوار کے روز کہا کہ ان کی تشویش 2000کے قریب ہندوستانیوں کے بشمول کیف میں جہاں پر شدید گولی باری کی وجہہ سے پھنسے ہوئے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ہندوستان نے پہلے ہی یوکرین سے 2000اسٹوڈنٹس کو نکال کیاہے اور ہنگری اوررومانیا سے چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعہ مزید1000کو واپس لایاجارہا ہے۔

یوکرین کے مشرق کا علاقے جس میں کارکیواو رسومیبھی شامل ہیں کشیدہ علاقے ہے اور ہندوستان چاہتا ہے کہ یوکرین کے سرحدوں کے ذریعہ اپنے شہریوں کو ہنگری‘ رومانیا‘ پولینڈ اور سلواکیا عبور کرائے جہاں سے انہیں آسانی کے ساتھ اپنے وطن کو واپس لایاجاسکے گا۔

شرنگلی نے کہاکہ ”راست خارجی وزیر کی نگرانی اور وزیراعظم کی تمام ہدایتوں پر وزرات خارجی امور ہر وہ چیز کو ممکن کررہی ہے جس کے ذریعہ یوکرین میں اپنے شہریوں کو مفادات‘ تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنایاجاسکے‘ او راسی کو سب سے زیادہ ترجیح دی جارہی ہے“۔

ہندوستان نے جمعہ کے روز ہنگری‘ رومانیا اور پولینڈ سے ہندوستانیوں کو منتقلی کی سہولتیں باہم پہنچانے کے لئے ویسٹرن یوکرین کے شہروں لوایو اور چیرناویسٹ میں کیمپس دفاتر قائم کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

مذکورہ علاقوں میں اپنے عہدیداروں کو بھی ہندوستان نے خیمہ زن کیاہے تاکہ یوکرین سے ہندوستانیوں شہریوں کے انخلاء کویقینی بنایاجاسکے۔

ہندوستان اپنے شہریوں کے انخلاء کے لئے زمینی راستے اختیار کیاہے کیونکہ روس کے حملہ کے بعد شہری جہازوں کے لئے یوکرین نے اپنی ہوائی سرحدیں بند کردی ہیں