کینیڈا کا امریکہ سے اقتصادی ، سیکوریٹی و فوجی تعلقات ختم کرنے کا اعلان

   

گاڑیوں کی درآمد پر بھاری محصولات عائد کرنے ٹرمپ کے فیصلہ کے بعد کینیڈین وزیر اعظم کا اعلان اہمیت کا حامل

اوٹاوا : کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کا کینیڈا و امریکہ کے تعلقات سے متعلق بڑا بیان سامنے آیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ہمارے اور امریکہ کے درمیان پرانے تعلقات ختم ہو گئے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ گہرے اقتصادی، سیکوریٹی اور عسکری تعلقات کے دور کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ مارک کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گاڑیوں کی درآمد پر بھاری محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے امریکہ میں گاڑیوں کی درآمد پر 25 فیصد ٹیکس عاید کر دیا گیا ہے، جو آئندہ ہفتہ سے نافذ العمل ہو گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کینیڈا کی آٹو انڈسٹری کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، جس سے تقریباً 5 لاکھ افراد وابستہ ہیں۔ کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے ٹرمپ کے اعلان کے بعد اپنی انتخابی مہم معطل کر دی اور اوٹاوا واپس پہنچ کر کابینہ کے ارکان کے ساتھ ہنگامی اجلاس منعقد کیا، جس میں امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ کے خلاف حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ امریکی صدر کے آٹو ٹیرف کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے مارک کارنی کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی صدر نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مستقل طور پر تبدیل کر دیا ہے اور مستقبل میں کسی بھی تجارتی معاہدہ کے باوجود واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ہمارا پرانا تعلق جو ہماری معیشتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے انضمام اور قریبی سیکوریٹی و عسکری تعاون پر مبنی تھا، اس کا اختتام ہوچکا ہے۔