غضب کیا ترے وعدہ پہ اعتبار کیا ………….
حیدرآباد۔23جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی کمیشن کی سفارش کو قبول کرتے ہوئے حکومت نے کے بی آر پارک کو آصفیہ پارک سے موسوم کرنے کے منصوبہ کا اظہار کیا تھا لیکن تاحال اس پر کوئی عمل آوری نہیں کی گئی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت دراصل سلاطین آصفیہ کے نام کو مٹانے کوشاں ہے اور اسے کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ ان حکمرانوں کے نام کو باقی رکھے۔حکومت تلنگانہ سلاطین آصفیہ سے زبانی اظہار الفت کے بجائے عملی اقدامات سے یہ ثابت کرے کہ حکومت سے واقعی حیدرآباد دکن کے سابق حکمرانوں کا صدق دل سے احترام کرتی ہے ۔تحریک تلنگانہ کے دوران چندر شیکھر راؤ نے متعدد مرتبہ نظام دکن کی تعریف کی اور ان کی خدمات کی سراہنا کرتے ہوئے خطہ تلنگانہ کے ترقیاتی کاموں کو سلطنت آصفیہ کی مرہون منت قرار دیا اور مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے مسجد جودی میں آصف سابع نواب میر عثمان علی خان کی مزار پر حاضری بھی دی۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد حکومت کی جانب سے بتدریج نظام دکن کی خدمات کو نظرانداز کیا جانے لگا بلکہ نظام دکن کی تاریخ کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد 2016 کے دوران شہزادی اسریٰ نے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کی تھی اور اسی دوران اس وقت کے صدرنشین اقلیتی کمیشن جناب عابد رسول خان نے حکومت کو سفارش روانہ کرکے کے بی آر پارک جو ’چیریان پیالس ‘ کا حصہ ہے آصفیہ پارک سے موسوم کرنے کی درخواست کی تھی ۔ تشکیل تلنگانہ کے چند ماہ بعد ہی شہزادی اسریٰ جاہ نے چیف منسٹر سے ان کی قیامگاہ پر ملاقات کرکے کاسو برہمانند ریڈی پارک کو’مکرم جاہ پارک‘ سے موسوم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور چیف منسٹر نے اس پر اقدامات کا تیقن دیاتھا اور کہا تھا وہ اس پارک کو آصفیہ پارک سے موسوم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن اب جبکہ ریاست حیدرآباد کے آخری فرمارواں آصف ثامن نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر کا انتقال ہوچکا ہے تو حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ حکومت شہر میں مکرم جاہ بہادر کی یادگار تعمیر کرے ۔ حکومت کے 2014 میں کئے گئے وعدہ پر عمل کے کوئی امکانات نہیں ہیں ایسے میں حکومت سے یہ توقع کرنا کہ وہ مکرم جاہ کے نام سے یادگار قائم کرے گی ناقابل فہم ہے۔ قانون حق حصول اراضیات کے تحت ’چیریان پیالس ‘ کے اطراف موجود 400 ایکڑ خانگی اراضی کو حکومت نے حاصل کرلیا اور نظام دکن نے یہ اراضی حوالہ بھی کردی جو اب محکمہ جنگلات کی ملکیت ہے لیکن اس اراضی پر موجود پارک کو آندھرائی قائد کے نام سے موسوم کیا گیا تھا لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد اس نام کو تبدیل کرنے کا جو اعلان تحریک تلنگانہ کے دوران کیا گیا تھا شائد چیف منسٹر کے سی آر اسے بھی فراموش کرچکے ہیں۔ تحریک تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کے جہدکاروں نے طلبہ جامعہ عثمانیہ کی مدد سے کاسو برھمانند ریڈی کے مجسمہ پر سیاہی پوت دی تھی اور اس وقت تحریک تلنگانہ کے قائد کی حیثیت سے چندر شیکھر راؤ نے ان کی ستائش کرکے اعلان کیا تھا کہ تشکیل تلنگانہ پر کے بی آر پارک کا نام تبدیل کرکے ’آصفیہ پارک‘ کردیا جائے گا اور کے بعد متعدد مرتبہ اس مطالبہ کو حکومت کے آگے پیش کیا گیا کیونکہ خود چندر شیکھر راؤ نے یہ اعلان کئے تھے لیکن شائد دیگر اعلانات اور وعدوں کی طرح وہ اس کو بھی فراموش کرچکے ہیں۔ حکومت پر اگر شہریان حیدرآباد اور مسلم نمائندوں سے دباؤ ڈال کر کے بی آر پارک کے نام کی تبدیلی کیلئے مجبور کیا جاتا ہے تو انہیں اپناوعدہ یاد دلایا جاسکتا ہے اور سلطنت آصفیہ کی خدمات کو خراج کے طور پر کے بی آر پارک کے نام کی تبدیلی کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں ۔ آندھراپردیش اقلیتی کمیشن جو متحدہ ریاست کا آخری کمیشن رہا نے بھی جناب عابد رسول خان کے دور میں حکومت کو روانہ سفارش پر کاروائی بھی شروع کی گئی تھی اور متعلقہ محکمہ جات سے مشاورت بھی کی گئی تھی لیکن شائد کے سی آر کو اقتدار ملنے کے بعد سلاطین آصفیہ سے کوئی دلچسپی نہیں رہی جس سے وہ مکمل خاموشی اختیار کرچکے ہیں لیکن حکومت کیلئے بھی موقع ہے کہ آصف ثامن کے انتقال کے بعد ان کی اور اسلاف کی خدمات کو خراج کے طور پر اس پارک کو ’آصفیہ پارک‘ سے موسوم کرسکتے ہیں لیکن ان کی جانب سے کوئی اقدام کیا جائے اس سے پہلے پارٹی قائدین انہیں بی جے پی سے خوفزدہ کرنے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ ایسا کرنے سے بی جے پی پر مسلم نواز جماعت ہونے کا الزام عائد ہوگا۔م