کے سی آر فارم ہاؤز کی اراضی کی تحقیقات کرنے چیف منسٹر ریونت ریڈی کا اعلان

   

30 دن میں تحقیقات کی تکمیل کی ہدایت، 700 ایکر میں 388 ایکر سرکاری اراضی ، کے سی آر خاندان کی اراضیات کی تفصیلات کی اجرائی
تلنگانہ میں ایک لاکھ کروڑ اراضی اسکام، خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل، اسمبلی میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کی تقریر
حیدرآباد۔16۔ستمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سابق چیف منسٹر کے سی آر کے فارم ہاؤز کی اراضی کی تحقیقات کا اعلان کیا۔ انہوں نے میدک ضلع کے دو وزراء اور عہدیداروں کو 30 دن میں تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے انتباہ دیا کہ اگر تحقیقات ایک ماہ میں مکمل نہیں کی گئی تو وزراء اور عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ریونت ریڈی نے آج اسمبلی میں رجسٹریشن ایکٹ کی سیکشن 22A پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے یہ اعلان کرتے ہوئے ایوان میں سنسنی دوڑا دی۔ کے سی آر کے فارم ہاؤز کی اراضی کی جانچ کے اعلان سے تلنگانہ کے سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تحقیقات میں اس بات کا پتہ چلایا جائے گا کہ آیا 700 ایکر اراضی فارم ہاؤز کے تحت ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 388 ایکر سرکاری اراضی فارم ہاؤز کے لئے شامل کی گئی ہے اور کے سی آر نے آج تک اس کا اظہار نہیں کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فارم ہاؤز میں شامل کی گئی سرکاری اراضی کو ان دلت خاندانوں میں تقسیم کریں گے جن کی بی آر ایس قائدین نے توہین کی ہے۔ کے سی آر فارم ہاؤز کے قریب دلتوں کے احتجاج کے بعد احتجاج کے مقام کو ہلدی کے پانی سے دھوکر شدھی کرن کیا گیا۔ چیف منسٹر نے اعلان کیا کہا جن دلتوں کے ساتھ توہین کی گئی وہ انہیں سرکاری اراضی کا مالک بنائیں گے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سدی پیٹ میں کے سی آر خاندان کی 67.5 ایکر اراضی ہے ۔ کے ٹی آر خاندان کی اراضی 123 ایکر، ہریش راؤ خاندان کی اراضی 30 ایکر ، کے کویتا خاندان کی اراضی 37 ایکر ، جے سنتوش راؤ خاندان کی اراضی 79 ایکر ، نوین راؤ کی 52 ایکر ، کونڈل راؤ کی 48 ایکر اراضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر خاندان کی 9 اضلاع کے 24 منڈلوں ، 31 گاؤں میں جملہ 439 ایکر اراضی موجود ہے۔ چیف منسٹر نے جنواڑہ میں کے ٹی آر کے فارم ہاؤز کا جائزہ لینے پر انہیں جیل بھیجنے کے واقعہ کا ذکر کیا اور کہا کہ ان پر الزام عائد کیا کہ وہ ڈرون کے ذریعہ فارم ہاؤز پر بم پھینکنا چاہتے ہیں۔ کیا میں بن لادن ہوں ؟ الیکشن سے قبل اسٹیفنسن کو یہ اراضی بطور تحفہ پیش کی گئی ۔ 50 کروڑ کی اراضی کو محض 1.53 کروڑ میں ریگولرائیز کیا گیا ۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ جی کملاکر ، ای دیاکر راؤ اور سدھیر ریڈی نے 650 ایکر سرکاری اراضی کو خریدا ہے ۔ جگدیش ریڈی کے 50 ایکر کے فارم ہاؤز میں 11.5 ایکر انعام اراضی شامل کی گئی۔ پائلٹ روہت ریڈی نے عزیز نگر میں اسائینڈ اراضی پر فارم ہاؤز تعمیر کیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں جملہ ایک لاکھ کروڑ اراضی کا اسکام ہوا ہے۔ اراضی اسکام کی جانچ کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اراضی اسکام کی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے اندرون ایک ماہ حقائق منظر عام پر لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو دھرانی پارٹ ون جاری کیا گیا ہے، عنقریب دھرانی پارٹ 2 کی بے قاعدگیوں کو منظر عام پر لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت بی آر ایس ارکان اسمبلی ایوان میں مو جود رہیں گے ، اسی وقت پارٹ 2 جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کو چاہئے کہ وہ بی آر ایس ارکان کی شرکت کو یقینی بنائیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ دھرانی کے نام پر ہزاروں کروڑ کی لوٹ مچائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 22A کے مسائل کے حل کے لئے اعلیٰ اختیاری عہدیداروں کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اندرون ایک ہفتہ گائیڈ لائینس جاری کئے جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایچ ایم ڈی اے ، جی ایچ ایم سی میں زیر التواء درخواستوں کا جائزہ لیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ 22A کے بارے میں اراضی مالکین کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے ایل بی نگر میں جی او نمبر 118 کے حدود میں شامل افراد کے لئے عنقریب خوشخبری کا اعلان کیا۔ ایل بی نگر اسمبلی حلقہ میں اراضیات کو باقاعدہ بنایا جائے گا۔ جی او 118 کے تحت زیر التواء درخواستوں کی مقررہ مدت میں یکسوئی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایل بی نگر کے علاقہ میں 9500 افراد متاثرین میں شامل ہیں۔ چیف منسٹر نے بی آر ایس ارکان پر ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اراضی سے متعلق اسکام پر بحث سے خوفزدہ ہوکر کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے اسپیکر کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا۔ اسمبلی کے احاطہ میں خاتون پولیس عہدیداروں کی توہین کی گئی۔ 1/k/m/b