کے سی آر ‘ ناندیڑ سے لوک سبھا انتخاب لڑیں گے ؟ بی آر ایس کارکنوں اور کیڈر میں مایوسی ۔ سیاسی مستقبل کے تعلق سے فکرمندی

   

حیدرآباد۔24۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں بی آر ایس قائدین اور کارکنوں کی مایوسی میں اضافہ ہونے لگا ہے اور وہ اب حکومت کے اقلیت میں آجانے کی حقیقت سے خود کو دلاسہ دینے سے عاجز آچکے ہیں کیونکہ خود بی آر ایس سربراہ کے فیصلوں سے یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ تلنگانہ میں بی آر ایس کا مستقبل غیر یقینی ہوتا جا رہاہے ۔ سنگارینی کالریز انتخابات میں حصہ نہ لینے کے فیصلہ کے بعد اب بی آر ایس سربراہ کے تلنگانہ کی بجائے پڑوسی ریاست مہاراشٹرا کے حلقہ لوک سبھا ناندیڑ سے مقابلہ کی قیاس آرائیوں کے دوران بی آر ایس قائدین و کارکن مایوس ہونے لگے ہیں۔گذشتہ دنوں ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد سنگارینی کالریز انتخابات کے متعلق بی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ نے فیصلہ کرکے پارٹی قائدین کو واقف کروایا کہ ان کی پارٹی نے سنگارینی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اس فیصلہ کے ساتھ ہی پارٹی قائدین و کارکنوں نے بی آر ایس سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور اب کہا جا رہاہے کہ گاندھی خاندان کے کسی فرد کے تلنگانہ میں کسی حلقہ لوک سبھا سے مقابلہ کے پیش نظر بی آر ایس سربراہ کے سی آر نے تلنگانہ سے مقابلہ سے گریز کرکے مہاراشٹرا میں ناندیڑ سے مقابلہ کا ذہن بنالیا ہے ان اطلاعات کے بعد بی آر ایس کے سینیئر قائدین بھی مایوسی کا شکار ہونے لگے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر خود پارٹی سربراہ پارٹی کے مستقبل سے مایوس ہو کر تلنگانہ کے باہر کسی اور حلقہ سے مقابلہ کرتے ہیں تو پارٹی کا تلنگانہ میں کیا موقف رہ جائے گا! ذرائع کے مطابق پارٹی کے سینیئر قائدین کے چندر شیکھر راؤ کو لوک سبھا انتخابات میں حلقہ پارلیمان میدک یا محبوب نگر سے مقابلہ کا مشورہ دے رہے ہیں جبکہ کانگریس نے سونیا گاندھی کو تلنگانہ کے کسی بھی حلقہ لوک سبھا سے مقابلہ کی پیش کش کی ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ بی آرا یس مہاراشٹرا میں صرف حلقہ لوک سبھا ناندیڑ ہی نہیں بلکہ مزید دیگر حلقہ جات سے بھی مقابلہ پر غور کر رہی ہے۔م