’ ماموں‘ کے حق میں ’ بھانجہ ‘ کی اضلاع میں مہم، عام مسلمان خوش نہیں، سوشیل میڈیا پر مجلسی قیادت سے مسلمانوں کے سوال
حیدرآباد۔یکم؍ نومبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر و بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی انتخابات میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ووٹ سے محرومی کے اندیشہ کے تحت اپنی حلیف جماعت مجلس کی مدد طلب کی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران بی آر ایس سے مسلمانوں کی دوری کے بارے میں واضح طور پر واقفیت اور اس سلسلہ میں عملی مظاہرہ دیکھنے کے بعد کے سی آر نے اپنے حلیف اور بااعتماد اسد اویسی کو میدان میں اتارا ہے تاکہ وہ مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے بی آر ایس سے مسلمانوں کو قریب کرنے کی کوشش کریں۔ سیاسی اصطلاح میں ’ماموں‘ کی مدد کیلئے ’ بھانجہ‘ متحرک ہوچکے ہیں اور گذشتہ دنوں ظہیرآباد میں جلسہ عام سے بی آر ایس کی تائیدی مہم کا آغاز ہوچکا ہے۔ اسد اویسی کل سنگاریڈی میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس کی اعلیٰ قیادت نے مقامی بی آر ایس قائدین اور پارٹی امیدواروں کو جلسہ عام کو کامیاب بنانے کی ذمہ داری دی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان جلسہ میں شریک ہوں جس کا راست طور پر فائدہ بی آر ایس کو ہو۔ اطلاعات کے مطابق اسد اویسی عادل آباد، بھینسہ، کریم نگر، نظام آباد اور دیگر اقلیتی آبادی والے علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے بی آر ایس کی کھلے عام تائید کریں گے اور مسلمانوں کو بی آر ایس امیدواروں کے حق میں ووٹ دینے کی ترغیب دیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر نے اقلیتوں کے بارے میں جس سروے کا اہتمام کیا تھا اس میں یہ واضح ہوچکا ہے کہ مسلمان اس مرتبہ کانگریس کو موقع دینا چاہتے ہیں۔ بی آر ایس کے اقلیتی قائدین مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں لہذا چیف منسٹر نے اسد اویسی کی خدمات حاصل کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسد اویسی نے ظہیرآباد میں کھل کر بی آر ایس کی نہ صرف تائید کی بلکہ تقریر کے اختتام کے بعد کار کا اسٹیرنگ چلانے کا عمل دہراتے ہوئے کار کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس کے حق میں صدر مجلس کی مہم سے خود مجلس کے حلقوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ پارٹی کے سینئر قائدین کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں مجلس کو غیر جانبدار موقف اختیار کرنا چاہیئے کیونکہ بی آر ایس کی تائید مسلمانوں کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔ اسد اویسی کی بی آر ایس کے حق میں مہم پر سوشیل میڈیا میں عام مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں نے سوال کیا کہ آخر کے سی آر نے مسلمانوںکے ساتھ ایسا کیا کارنامہ انجام دیا کہ اسد اویسی صدر مجلس سے زیادہ بی آر ایس کے قائد کا رول ادا کررہے ہیں۔ مجلس نے ابھی تک شہر کے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے اور اطلاعات کے مطابق بی آر ایس کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے مجلس اضلاع میں مقابلہ نہیں کرے گی۔ بعض علاقوں سے مقامی مجلسی قائدین امیدوار میدان میں اتارنے کیلئے قیادت پر دباؤ بنارہے ہیں۔ اضلاع میں صدر مجلس کی بی آر ایس کے حق میں تائیدی مہم کا مقامی سطح پر کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ بی آر ایس قائدین کے تعاون سے عوام کی کثیر تعداد کی شرکت کو یقینی بنایا جارہا ہے لیکن جلسہ عام کے بعد مقامی مسلمانوں کی رائے یہ ہے کہ انہیں مقامی سطح پر فیصلہ کیلئے صدر مجلس کے مشورہ کی ضرورت نہیں۔ مقامی حالات اور ضرورت کے مطابق مسلمانوں کیلئے موزوں امیدوار کی تائید کی جائے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ اسد اویسی کی اپنے ’ ماموں‘ کے حق میں مہم کا بی آر ایس کو کتنا فائدہ ہوگا؟۔