قومی جماعت کی تشکیل کے بعد ملک کے دارالحکومت کا پہلا دورہ پھیکا۔ چیف منسٹر دفاتر کے معائنہ تک محدود
حیدرآباد۔/14 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کو قومی جماعت بی آر ایس میں تبدیل کرنے کا اعلان کرنے کے بعد پہلی مرتبہ دہلی پہنچنے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کرنے کیلئے کسی بھی جماعت کے قائدین نہیں پہنچے۔ تین دن تک کے سی آر کیمپ میں خاموشی چھائی رہی۔ چیف منسٹر کے سی آر دہلی میں تعمیر ہونے والے پارٹی کے دفتر کا معائنہ کرنے تک محدود رہے۔ کے سی آر نے کافی دھوم دھام طریقہ سے قومی سیاست میں قدم رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ جس دن وہ نئی قومی پارٹی تشکیل دینے کا اعلان کررہے تھے اس وقت انہوں نے مختلف سیاسی پارٹیوں کے قائدین حیدرآباد مدعو کیا تھا اور عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ ملک بھر میں ان کے فیصلہ کی ستائش ہورہی ہے اور مختلف جماعتیں کانگریس اور بی جے پی کا متبادل تیار کرنے کیلئے ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کیلئے تیار ہیں۔ کے سی آر نے دہلی میں بی آر ایس کا جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کہا تھا کہ پڑوسی ریاستوں کرناٹک اور مہاراشٹرا میں بی آر ایس کیلئے ساز گار ماحول ہے اور کرناٹک میں بی آر ایس کمارا سوامی کی پارٹی سے اتحاد کرتے ہوئے مقابلہ بھی کرے گی۔ ملائم سنگھ یادو کی آخری رسومات میں شرکت نے کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اُتر پردیش پہنچے تھے اور وہاں سے دہلی کیلئے روانہ ہوگئے ۔ ٹی آر ایس کے ذرائع سے بتایا گیا تھا کہ چیف منسٹر دہلی میں ہفتہ تک قیام کریں گے اور اس دوران وہ بی آر ایس کو مستحکم کرنے اور قومی سیاست میں اہم رول ادا کرنے کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین ، ماہرین معاشیات ، کسان تنظیموں کے نمائندوں اور صحافیوں سے ملاقات کرتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی تیار کریں گے۔ تاہم تین دن تک ان کی دہلی کی سرکاری قیامگاہ میں سناٹا رہا ۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے قائدین نے چیف منسٹر کے سی آر سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی کے سی آر کسی سے ملاقات کیلئے گئے ہیں البتہ جس دن وہ اُتر پردیش سے دہلی پہنچے اُسی دن سردار پٹیل مارگ پر قائم ہونے والے بی آر ایس پارٹی دفتر کا معائنہ کیا اور عملہ کو چند تبدیلیوں کیلئے ہدایت دی۔ بعد ازاں جمعرات کو چیف منسٹر تلنگانہ نے دہلی میں ٹی آر ایس پارٹی آفس کے تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا۔ ڈیزائن کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ واستو کے مطابق تعمیرات کو یقینی بنانے پر زور دیا۔دہلی میں ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ سریش ریڈی کے علاوہ کے سی آر سے کسی نے ملاقات نہیں کی۔ چیف منسٹر کے دورہ دہلی میں کوئی سیاسی سرگرمیاں دیکھنے میں نہیں آئیںجو سیاسی حلقوں میں موضوع بحث ہوئی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے چیف منسٹر کے سی آر کے دورہ دہلی کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی پارٹی کو کے سی آر پر بھروسہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی قائدین ان سے ملاقات کرنے میں دلچسپی دکھارہے ہیں۔ ن