کے سی آر کی قومی سیاست سے دلچسپی ‘ نئی سیاسی جماعت کے قیام کا ارادہ

   


سرگرم مشاورت کا دوبارہ آغاز ۔ ملک کے سیاسی نظام میں تبدیلی کی کوشش۔ ٹی آر ایس کے قائدین کی رائے منقسم

حیدرآباد9۔ستمبر(سیاست نیوز) ملک میں متبادل سیاسی نظام کی ضرورت کو محسوس کرکے چیف منسٹر تلنگانہ و سربراہ ٹی آر ایس نئی قومی سیاسی جماعت کا قیام عمل میں لائیں گے اور جلد ہی شہر سے نئی سیاسی کے اعلان کی توقع کی جا رہی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ چندر شیکھر راؤ نے قومی سیاسی جماعت کے قیام کا ذہن بنالیا ہے اور وہ ملک کے سیاسی نظام میں انقلابی تبدیلی کے خواہاں ہیں اسی لئے وہ جلد ہی نئی جماعت کااعلان کرکے قومی سیاست میں قدم رکھیں گے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس قائد راہول گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کو متوقع ردعمل حاصل نہ ہونے کے بعد کے سی آر نے قومی متبادل کے طور پر نئی جماعت کے قیام کیلئے دوبارہ سرگرم مشاورت شروع کردی ہے ۔ٹی آر ایس ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ ملک میں سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے دانشوران قوم ‘ سابق ججس ‘ سابق بیوروکریٹس کے علاوہ علاقائی جماعتوں کے قائدین نے ٹی آر ایس سربراہ کو قومی سیاست میں قدم رکھنے دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے جبکہ مخالف ٹی آر ایس گوشوں میں کہا جا رہاہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ میں کارروائیوں اور سی بی آئی و انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کو متحرک کرنے کے سبب ٹی آر ایس سربراہ قومی سیاست میں قدم رکھتے ہوئے بی جے پی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کانگریس حامی گروپس کا کہناہے کہ تلنگانہ کو قرض میں مبتلاء کرنے والے چندر شیکھر راؤ اب مخالف بی جے پی لہر کو منقسم کرنے کی کوشش میں قومی سیاست کی بات کر رہے ہیں جبکہ ملک کے حالات کے پیش نظر راہول گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کو زبردست عوامی تائید مل رہی ہے جس کی وجہ سے بی جے پی ‘ تلنگانہ راشٹر سمیتی سربراہ کو استعمال کرکے مخالف حکومت ووٹوں کی تقسیم کی حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔ تلنگانہ میں مختلف اسکیمات اور کے سی آر کی قائدانہ صلاحیتوں کے سب معترف ہیں اور قومی سیاست میں دیکھنے کے خواہش مند بھی ہیں اسی لئے کے سی آر نے چیف منسٹر برقرار رہ کر قومی سیاست میں کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک کی علاقائی سیاسی جماعتو سکے اتحاد اور تیسرے محاذ کی تشکیل کی کوشش میں ناکامی کے بعد کہا جا رہاہے کہ کے سی آر اپنی قومی جماعت کی تشکیل کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ سابق میں بھی کے سی آر نے قومی سطح پر بھارتیہ راشٹر سمیتی یا بھارتیہ رعیتو سمیتی کے نام سے نئی جماعت کی تشکیل کے اشارے دئیے تھے لیکن اس کے بعد مکمل خاموشی اختیارکرلی گئی تھی ۔ کے چندر شیکھر راؤ کے قریبی رفقاء اور مشیروں کے مطابق تلنگانہ میں اپنی گرفت برقرار رکھتے ہوئے قومی سیاست میں حصہ لینے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور کے سی آر کا یہ ماننا ہے کہ تلنگانہ میں وہ ناقابل تسخیر ہیں اور انہیں اپوزیشن کا سامنا نہیں ہے ۔ مرکز کی جانب سے ریاست کو قرض پر تحدیدات‘ پڑوسی آندھراپردیش کو اداشدنی بقایاجات کی فوری اجرائی کی ہدایت کے علاوہ ریاست کی ترقی میں مرکز سے تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹوں کو دور کرنے قومی جماعت کو ٹی آر ایس ناگزیر تصور کر رہی ہے۔ ٹی آر ایس قائدین کا کہناہے کہ قیام تلنگانہ کیلئے جدوجہد کے وقت یہ کہا جاتا رہا تھا کہ تشکیل تلنگانہ ناممکن ہے لیکن کے سی آر نے حکمت اور جدوجہد کے ذریعہ حصول تلنگانہ میں جس طرح سے کامیابی حاصل کی ہے اسی طرز پر ملک سے فرقہ واریت کے خاتمہ کے ذریعہ سیکولر جماعتوں کی کامیابی کو یقینی بنائیں گے۔ جو قائدین قومی سیاست میں داخلہ کے مخالف ہیں ان کا کہناہے کہ اگر ٹی آر ایس قومی سیاست میں قدم رکھتی ہے تو پارٹی کی مستحکم علاقائی جماعت کی حیثیت نہیں رہے گی اور تلنگانہ عوام میں نئی قومی پارٹی کو بھی دہلی سے حکمرانی کرنے والی پارٹی قرار دیا جائے گا۔م