گجرات میں بی جے پی کو عآپ اور کانگریس کو مجلس کا خوف

   


انتخابی منظر تبدیل، ووٹ کی تقسیم کا اندیشہ، مہم میں دولت کا اہم رول
حیدرآباد۔/29 نومبر، ( سیاست نیوز) کیا بی جے پی گجرات میں 27 سالہ طویل اقتدار کو بچا پائے گی؟ ایسے وقت جبکہ گجرات اسمبلی انتخابات کی مہم عروج پر ہے اور رائے دہی کیلئے صرف چند دن باقی ہیں ایسے میں گجرات کے نتائج کے بارے میں ماہرین کے درمیان اس بات کو لے کر بحث جاری ہے کہ انتخابی مہم کی تبدیل شدہ صورتحال سے بی جے پی کو کس قدر فائدہ حاصل ہوگا۔ بی جے پی نے 27 سالہ اقتدار کی برقراری کیلئے اپنی مکمل طاقت جھونک دی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے بشمول پارٹی کے تمام سرکردہ قومی قائدین انتخابی مہم کے تحت گجرات کی گلی کوچوں میں ووٹ کی اپیل کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ نریندر مودی اور امیت شاہ کی آبائی ریاست کا انتخابی نتیجہ نہ صرف دونوں قائدین بلکہ پارٹی کیلئے وقار کا مسئلہ بن چکا ہے۔ گذشتہ چناؤ میں ہمیشہ بی جے پی کا کانگریس سے راست مقابلہ درپیش رہا لیکن اس مرتبہ عام آدمی پارٹی اور مجلس کی انتخابی میدان میں موجودگی سے انتخابی منظر یکسر تبدیل ہوچکا ہے اور مبصرین نتائج کے بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ بھی کہنے سے گریزاں ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ عام آدمی پارٹی اور مجلس کے مقابلہ کی صورت میں ووٹ تقسیم ہوسکتے ہیں جس کا راست طور پر فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ بی جے پی قائدین کو کجریوال کی پارٹی سے خطرہ کا اندیشہ ہے جبکہ کانگریس پارٹی کے امکانات کو مجلس اتحادالمسلمین کا داخلہ متاثر کرسکتا ہے۔ دونوں اہم پارٹیاں اپنے اپنے ووٹ بینک کی تقسیم کو روکنے کی فکر کررہی ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے ہندو ووٹ حاصل کرنے کیلئے نرم ہندوتوا کی پالیسی اختیار کی ہے اور مسلمانوں کے مسائل کو پیش کرنے سے گریز کیا جارہا ہے جبکہ مجلسی قیادت مسلمانوں اور دلتوں کے مسائل کو انتخابی موضوع بنارہی ہے جس کے نتیجہ میں دونوں طبقات کے ووٹ تقسیم ہونے کا خطرہ ہے۔ اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس کی رپورٹ کے مطابق کہ گذشتہ پانچ برسوں میں گجرات میں کروڑ پتی امیدواروں کی حصہ داری میں اضافہ ہوچکا ہے۔ انتخابی میدان میں موجود 1621 امیدواروں میں 456 امیدوار یعنی 28 فیصد کروڑ پتی ہیں جبکہ گذشتہ انتخابات میں 1815 امیدواروں میں 418 یعنی 23 فیصد کروڑ پتی امیدوار تھے۔ دولت مند امیدواروں میں اضافہ کے نتیجہ میں انتخابی مہم پر دولت کا اثر صاف طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ تمام اہم سیاسی جماعتوں نے دولت مند امیدواروں کو ترجیح دی ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں ملک بھر میں انتخابی مہم کافی مہنگی ہوچکی ہے اور دولت کے استعمال کے ذریعہ کامیابی کے رجحان میں اضافہ ہوچکا ہے۔ اہم سیاسی پارٹی کے 182 امیدواروں میں سے 154 کا تعلق بی جے پی سے ہے جبکہ کانگریس کے 179 امیدواروں میں 142 دولت مند طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے 181 امیدواروں میں 68 امیدوار ایسے ہیں جنہوں نے ایک کروڑ روپئے سے زائد کے اثاثہ جات کا اعلان کیا ہے۔ 2022 گجرات اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے اوسط اثاثہ جات 3.58 کروڑ ہیں جبکہ 2017 اسمبلی انتخابات میں 1815 امیدواروں کے اثاثہ جات 2.22 کروڑ سے زائد تھے۔ اہم سیاسی جماعتوں میں بی جے پی کے 182 امیدواروں کے اثاثہ جات اوسطاً 16.56 کروڑ ہیں جبکہ کانگریس کے 179 امیدواروں کے اثاثہ جات اوسطاً 7.79 کروڑ جبکہ عام آدمی پارٹی کے 181 امیدواروں کے اوسط اثاثہ جات 3.68کروڑ درج کئے گئے۔ بھارتیہ ٹرائیبل پارٹی کے امیدواروں کے اثاثہ جات اوسطاً 21.68 لاکھ درج کئے گئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی اور مجلس کے انتخابی میدان میں اُترنے کے بعد گجرات کے نتائج کس رُخ پر رہیں گے۔ر