گذشتہ 10 برسوں کی بدعنوانیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز

   

اسپیشل پرنسپل سکریٹری اروند کمار کو تحقیقات کیلئے طلب کرنے اے سی بی کا فیصلہ
حیدرآباد 6 فروری ( سیاست نیوز) حکومت گذشتہ 10 برسوں کے دوران ہونے والی بدعنوانیوں کے خلاف کارروائی کا عملی طور پر آغاز کرچکی ہے! گذشتہ 10 برسوں میں اہم عہدوں پر فائز حکومت کے اشاروں پر بدعنوانیوں پرخاموشی اختیار کرنے والے عہدیداروں کو نشانہ بنایا جانا شروع کردیا گیا ہے! جن عہدیداروں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے سرکاری خزانہ کو نقصان پہنچایا ان کے خلاف نوٹسوں کی اجرائی عمل میں لائی جانے لگی ہے۔ تلنگانہ میں اہم عہدوں پر خدمات مامور عہدیداروں کے خلاف کاروائی پر کہا جا رہاہے کہ حکومت کی ہدایت کے بعد اینٹی کرپشن بیورو نے اسپیشل چیف سیکریٹری اروند کمار کو تحقیقات کیلئے طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انسداد رشوت ستانی بیورو کی جانب سے شیوابالا کرشنا پر دھاوے اور کروڑہا روپئے کے غیر محسوب اثاثہ جات کی ضبطی اور تحقیقات میںانکشافات کی بنیاد پر اے سی بی کی جانب سے آئی اے ایس عہدیدار اروند کمار کو نوٹس دینے کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے ۔ ان کے علاوہ دیگر عہدیداروں کے نام بھی اے سی بی تحقیقات میں شامل ہوسکتے ہیں جن میں سابق چیف سیکریٹری سومیش کمار کا نا م بھی شامل ہے ۔ کل ریاستی وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا تھاکہ بہت جلد سومیش کمار کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا۔ ان کاروائیوں کا شکار عہدیداروں میں بیشتر وہ عہدیدار ہیں جو بی آر ایس حکومت کے سرکردہ قائدین سے قریب رہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق نئے سیکریٹریٹ کی تعمیر کے بعد مختلف اشیاء کی خریدی بالخصوص کمپیوٹر ‘ وائی فائی کے علاوہ دیگر ٹکنالوجی سے جڑی اشیاء کی خریدی میں پرنسپل سیکریٹری انفارمیشن ٹکنالوجی جئیش رنجن پر بھی کئی الزامات ہیں اور ان کے خلاف بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہاہے ۔ واضح رہے کہ سابقہ حکومت میں مسٹر اروند کمار اور جئیش رنجن دونوں سابق وزیر کے ٹی راما راؤ کے قریبی عہدیداروں میں شمار کئے جاتے تھے اس کے علاوہ سابق چیف سیکریٹری مسٹر سومیش کمار سابق چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے قریبی تصور کئے جاتے تھے اور طویل مدت تک ان تمام کو ایک مقام پر رکھا گیا تھا۔ بتایا گیا کہ ایسے عہدیداروں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جو سابقہ حکومت میں طویل مدت تک ایک ہی عہدہ پر فائز رہے ہیں اور ان کے تبادلوں میں حکومت نے جانبداری کا مظاہرہ کرکے انہیں ایک ہی عہدہ پر برقرار رکھا تھا۔ محکمہ بلدی نظم و نسق‘ آبپاشی ‘ انفارمیشن ٹکنالوجی کے علاوہ محکمہ اقلیتی بہبود میں طویل مدت تک برسرکار عہدیداروں کے ساتھ محکمہ افزائش مویشیاں ‘ تعلیم اور سیاحت میں برسر خدمت حکام کی کارکردگی اور ان کے دور میں منظورہ ٹنڈرس کی تحقیقات کیلئے تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ 3