گرفتاری سے بچنے ابھیشیک بنرجی کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع

   

کولکاتہ، 3 جون (یواین آئی) ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھشیک بنرجی نے مغربی بنگال اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری سے متعلق ایک خط میں مبینہ دستخطی بے ضابطگیوں کی جانچ کے سلسلے میں گرفتاری سے تحفظ حاصل کرنے کیلئے چہارشنبہ کے روز کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ بنرجی نے سی آئی ڈی کے جاری کردہ نوٹس کو چیلنج کیا ہے اور ایجنسی کی طرف سے کسی بھی تعزیری کارروائی بشمول گرفتاری سے قانونی تحفظ مانگا ہے ۔ اس معاملے کی سماعت جمعہ کے روز جسٹس اپورب سنہا رائے کی بنچ کے روبرو ہونے کا امکان ہے۔ عدالت نے انہیں درخواست دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ تنازعہ اس خط کو لے کر پیدا ہوا ہے جو ترنمول کانگریس قانون ساز پارٹی کی جانب سے اسمبلی میں اہم عہدوں کیلئے پارٹی رہنماؤں کے نام تجویز کرتے ہوئے پیش کیا گیا تھا۔ اس خط میں شھوبھن دیو چٹوپادھیائے کو قائد اپوزیشن، اسیم پاترا اور نینا بندوپادھیائے کو ڈپٹی لیڈر اور فرہاد حکیم کو چیف وہپ مقرر کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ الزام ہے کہ اس دستاویز میں کئی دستخط یا تو موجود نہیں تھے یا ان میں بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ ذرائع کے مطابق خط میں 70 ارکانِ اسمبلی کے نام درج تھے ، لیکن ان میں سے کم از کم 14 نام صرف بڑے حروف میں لکھے گئے تھے اور ان کے ساتھ دستخط موجود نہیں تھے ۔ بعض دیگر دستخطوں کی صداقت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس کے بعد ریاستی حکومت نے معاملے کی جانچ سی آئی ڈی کے سپرد کر دی۔ چونکہ ابھیشیک بنرجی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری ہیں، اس لیے خط پر ان کے دستخط بھی موجود تھے ۔ سی آئی ڈی حکام ہفتے کے روز ان کی رہائش گاہ پر پہنچے تھے اور انہیں تحقیقات میں تعاون کیلئے نوٹس دیتے ہوئے پیر کے روز بھوانی بھون میں واقع سی آئی ڈی ہیڈکوارٹر میں حاضر ہونے کو کہا تھا۔
تاہم مسٹر بنرجی مقررہ تاریخ پر تحقیقاتی ایجنسی کے سامنے پیش نہیں ہوئے اور مبینہ طور پر مزید وقت کی درخواست کی تھی۔
بدھ کے روز انہوں نے سی آئی ڈی کے نوٹس کو چیلنج کرتے ہوئے اور گرفتاری سے تحفظ کی درخواست کے ساتھ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی۔ اس سے قبل بھی وہ اشارہ دے چکے تھے کہ ایجنسی کی کارروائی کے خلاف قانونی راستہ اختیار کریں گے ۔