گریجن یونیورسٹی کے قیام کے مطالبہ پر مرکزی حکومت کی سرد مہری

   

ملگ میںمیڈیکل کالج کا قیام، بی آر ایس رکن کونسل کویتا کا
ریاستی وزیر ستیہ وتی راٹھور کے ساتھ دورہ
حیدرآباد۔/22 جنوری، ( سیاست نیوز) بی آر ایس رکن کونسل کویتا نے کہا کہ ملگ ضلع میں گریجن یونیورسٹی کے قیام پر مرکزی حکومت کا رویہ افسوسناک ہے۔ گریجن یونیورسٹی کیلئے بارہا نمائندگی کی گئی اور حکومت نے اراضی الاٹ کردی ہے لیکن مرکزی حکومت یونیورسٹی کے قیام کیلئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈارم جاترا کو قومی جاترا قرار دینے کیلئے مرکز سے نمائندگی کی گئی لیکن اس تجویز کو منظوری نہیں دی گئی۔ تلنگانہ حکومت میڈارم جاترا پر 100 کروڑ روپئے خرچ کررہی ہے۔ کویتا نے ملگ ضلع میں رامپا مندر کے درشن کئے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں رامپا مندر کو حکومت کی جانب سے ترقی دی جائے گی۔ کویتا نے کہا کہ گریجن طبقہ کے مسائل کے حل کیلئے چیف منسٹر نے ملگ کو علحدہ ضلع کا درجہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں میڈیکل کالج قائم کیا گیا اور آئندہ تعلیمی سال سے کلاسیس کا آغاز ہوگا۔ کویتا نے کہا کہ چیف منسٹر نے سنگارینی کے فوت ہونے والے ملازمین کے کسی فرد خاندان کو ملازمت کا وعدہ کیا تھا لیکن عدالت سے اس معاملہ میں رکاوٹ پیدا کردی گئی۔ انہوں نے کہاکہ کول انڈیا سے زیادہ سنگارینی کی کارکردگی وسیع ہے۔ ریاستی وزیر ستیہ وتی راٹھور کے ہمراہ کویتا نے ملگ ضلع میں کئی پروگراموں میں حصہ لیا۔ بی آر ایس اور تلنگانہ جاگروتی کی جانب سے ریالی منظم کی گئی۔ ر