گریٹر حیدرآباد میں ووٹر لسٹ SIR مہم، 12 لاکھ ووٹرس کے نام منسوخ ہونے کا خدشہ

   

دیگر ریاستوں اور تلنگانہ کے مختلف اضلاع کے ووٹرس نے آبائی علاقوں کے ووٹ کو ترجیح دی
20 سے30 فیصد اینومریشن فارمس واپس نہ ہونے کا اندازہ، کم از کم کالم 3 بھر کر ووٹ کو محفوظ کرنے کی اپیل

حیدرآباد۔ 22 جولائی (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد اور اس کے اطراف و اکناف کے تینوں اضلاع (حیدرآباد۔ رنگاریڈی اور میڑچل ملکاجگری) میں جاری خصوصی جامع نظرثانی (SIR) مہم کے دوران ایک اہم اور تشویشاک صورتحال سامنے آئی ہے۔ آندھرا پردیش، گجرات، راجستھان، اترپردیش، آسام، ٹاملناڈو، کرناٹک اور تلنگانہ کے دیگر اضلاع سے آکر حیدرآباد میں قیام پذیر رہنے والوں کی اکثریت نے اپنے آبائی علاقوں میں ہی ووٹر کے طور پر برقرار رہنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ بی ایل اوز کی جانب سے تقسیم کئے گئے اینومریشن فارمس کو شہری واپس نہیں کررہے ہیں جس کی وجہ سے حکام کا اندازہ ہے کہ تقسیم شدہ فارمس میں سے 20 تا 30 فیصد فارمس واپس نہیں ملیں گے۔ اسمبلی حلقہ گوشہ محل میں گجرات اور راجستھان کے باشندوں کی بڑی تعداد قیام پذیر ہے جہاں حال ہی میں SIR مکمل ہوا ہے۔ وہاں اپنے آبائی شہروں میں ووٹ برقرار رکھنے والے افراد اب حیدرآباد میں فارم نہیں بھر رہے ہیں۔ ملازمتوں اور کارباروں میں مستقل طور پر قیام پذیر چند شہری اپنے آبائی علاقوں کے ووٹ ترک کرکے حیدرآباد میں ووٹ برقرار رکھ رہے ہیں۔ فی الوقت یہ سروے 16 ریاستوں اور 3 مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ہے جبکہ پرانے شہر میں SIR کی پیشرفت دیگر علاقوں کے مقابلے کافی بہتر ہے۔ الیکشن حکام کے جاری کردہ تشویشناک اعداد و شمار کے مطابق 20 جولائی تک صرف ضلع حیدرآباد کے 2.5 لاکھ ووٹرس ’’اے ایل ڈی‘‘ (Absentees Shifted Deceased) زمرے میں شامل ہوچکے ہیں۔ اضلاع رنگاریڈی، میڑچل ملکاجگری میں 5 فیصد ووٹرس (ASO) لسٹ میں آچکے ہیں۔ اندازہ ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کی مکمل کارروائی تک تینوں اضلاع کے 1.2 کروڑ ووٹرس میں سے تقریباً 12 لاکھ ووٹرس کے شناختی کارڈس منسوخ ہو جائیں گے جن ووٹرس کے نام اور (Sur name) میں فرق پایا گیا ہے۔ انہیں نوٹس جاری کئے جارہے ہیں اور ایسے لاکھوں افراد اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہوسکتے ہیں۔ جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ اگر بی ایل اوز کی جانب سے تقسیم کئے گئے اینومریشن فارمس گھر پر رکھا جارہا ہے اور واپس نہ کیا گیا تو ووٹ خود بخود منسوخ ہو جائے گا۔ اگر فارم کی خانہ پوری میں کوئی دشواری پیش آرہی ہو تو پریشان نہ ہوں صرف فارم کے تیسرے کالم (Column 3) میں اپنا نام اور موجودہ پتہ درج کرکے فارم جمع کروادیں۔ بعد میں الیکشن کمیشن کی نوٹس کا جواب کسی بھی شناختی کارڈ کے ساتھ دے کر اپنے ووٹ کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ شہریوں کی رہنمائی کیلئے GHMC ہیڈ آفس اور تمام سرکل دفاتر میں خصوصی ہیلپ لائن سنٹرس قائم کردیئے گئے ہیں۔ 2؍F