گریٹ نکوبار پراجکٹ کیلئے 131کلومیٹر جنگل کی زمین تبدیل

   

نئی دہلی: حکومت نے جمعرات کو پارلیمنٹ کو بتایا کہ گریٹ نکوبار میں ترقیاتی پروجیکٹ کے لیے 130.75 مربع کلومیٹر زمین کو تبدیل کرنے کے لیے اصولی منظوری دی گئی ہے اور اس پروجیکٹ میں 9.64 لاکھ درخت متاثر ہو سکتے ہیں۔وزیرمملکت برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کیرتی وردھن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ جنگل کی زمین کو موڑنے کیلئیمجوزہ علاقہ کا آدھے سے زیادہ 65.99 مربع کلومیٹررقبہ سبز ترقی کے لئے محفوظ کرنے کی تجویز ہے ۔ جہاں درختوں کی کٹائی کا تصور نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 7 اکتوبر 2022 کے خط کے ذریعہ گریٹ نکوبار جزیرے میں پائیدار ترقی کے لیے 130.75 مربع کلومیٹر جنگلاتی اراضی کو تبدیل کرنے کیلئے اصولی/مرحلہ1 کی منظوری دی گئی ہے ۔ بدلی (ڈائی ورٹ) ہوئی جنگلاتی زمین کی جگہ معاوضہ دارانہ شجرکاری کی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ “یہ توقع ہے کہ تقریباً 15 فیصد ترقیاتی رقبہ سبز اور کھلی جگہ رہے گی اور اس وجہ سے متاثر ہونے والے درختوں کی تعداد 9.64 لاکھ سے کم رہے گی۔”وزیر نے کہا کہ زمین کی تبدیلی کی منظوری کیلئیمقرر کردہ شرائط کے مطابق وہاں کے نباتات اور حیوانات پر ترقی کے اثرات کی تلافی کیلئے مناسب تخفیف کے اقدامات کیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی وجہ سے لدرے بیک کچھوؤں کی افزائش کے علاقے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے ۔ سنگھ نے بتایا کہ وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ڈبلیو آئی آئی) کی طرف سے انڈمان اور نکوبار جزائر میں سمندری کچھوؤں کی تحقیق اور نگرانی کیلئے قائم ریسرچ یونٹ ماحولیاتی منظوری کی شرائط کا ایک اہم جزو ہے ۔