ساڑیوں اور کھانے کے پیاکٹس کی تقسیم کے دوران واقعہ ۔ چیف منسٹر جگن کی نائیڈو پر سخت تنقید
حیدرآبادیکم؍ جنوری، ( سیاست نیوز) تلگودیشم سربراہ این چندرا بابو نائیڈو کے گنٹور میں آج منعقدہ جلسہ عام کے بعد بھگدڑ کے نتیجہ میں 3 خواتین ہلاک ہوگئیں۔ واضح رہے کہ چار دن قبل نیلور کے کندکور میں روڈ شو کے دوران بھگدڑ کے نتیجہ میں 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ تازہ ترین حادثہ کے نتیجہ میں جگن حکومت کے خلاف تلگودیشم کی جاری مہم کو چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ تلگودیشم سربراہ نے اتوار کو سنکرانتی کانوکا کے عنوان سے ایک پروگرام منعقد کیا تھا جس میں عوام کو تحفے تقسیم کئے جارہے تھے اسے حاصل کرنے 4 ہزار خواتین بڑے میدان میں جمع ہوئی تھیں۔ پروگرام کے اختتام کے بعد چندرا بابو نائیڈو اپنی رہائش گاہ کیلئے روانہ ہورہے تھے کہ اچانک بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجہ میں3 خواتین ہلاک ہوگئیں ۔ اس حادثہ کے بعد وہاں ہلچل مچ گئی اور کھانے کے پیاکٹس کی تقسیم کے دوران خواتین کا ایک گروپ بیریکیڈس ہٹاکر وہاں سے جانے لگا تب یہ واقعہ پیش آیا۔ اس حادثہ کے بعد آندھرا پردیش کے چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے چندرا بابو نائیڈو کے روڈ شو اور جلسہ عام کے انعقاد پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور تنقید کا نشانہ بنایا اوراس حادثہ کا ذمہ دار تلگو دیشم سربراہ کو ٹھہرایا۔ ایک اعلی پولیس عہدیدار نے بتایا کہ چندر ابابو نائیڈو پروگرام کے بعد یہاں سے روانہ ہوگئے تھے ۔ مقامی تلگودیشم قائدین کی جانب سے تحفہ کے طور پر ساڑیوں کی تقسیم کی جا رہی تھی ۔ ایک طرف ساڑیاں اور دوسری طرف کھانے کے پیاکٹس کی تقسیم ہو رہی تھی ۔ اچانک ایک بیاریکیڈ ہٹ گیا اور اچانک ہی بھگدڑ شروع ہوگئی جس کے نتیجہ میں تین خواتین کی موت ہوگئی ۔ برسر اقتدار وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی جانب سے بھگدڑ کے واقعات پر شدید رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ان پروگرامس کو تشہیر کیلئے چندرا بابو نائیڈو کے جنون کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے ۔