بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے
حیدرآباد ۔ 2 مئی (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد و سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ آج راج بھون میں گورنر جشنودیو ورما سے ملاقات کرنے والے کانگریس قائدین کے وفد میں شامل تھے۔ انہوں نے اسمبلی میں منظور کردہ بی سی بل کو گورنر کی جانب سے صدرجمہوریہ کو روانہ کرنے پر اُن سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی ارکان پارلیمان بی سی طبقات کی فہرست میں مسلمانوں کو شامل کرنے کی مخالفت کررہے ہیں جو سراسر دستوری و قانونی خلاف ورزی ہے۔ ملک کی کئی ریاستوں حتی کہ جن ریاستوں میں بی جے پی برسراقتدار ہے، وہاں پر بھی مسلمان بی سی طبقات کی فہرست میں شامل ہیں، لیکن تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ صرف اور صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے تلنگانہ میں مسلمانوں کو بی سی طبقات کی فہرست سے شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے بی سی طبقات کو گمراہ کررہے ہیں۔ حقیقت میں مسلمان ملک کا حصہ ہیں۔ بی جے پی نفرت کی سیاست کو بڑھاوا دیتے ہوئے ہندو۔مسلم اتحاد کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ بی جے پی کی اس کوشش کی ہم سخت مخالفت کرتے ہیں۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ بی جے پی ایک طرف پسماندہ مسلمانوں کی بات کرتی ہے، ان کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے کا وزیراعظم نریندر مودی اعلان کرتے ہیں، ساتھ ہی ماہ رمضان کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے غریب مسلمانوں میں رمضان کٹس بھی تقسیم کئے گئے، لیکن تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی قائدین خود اپنی پارٹی اور اس کی پالیسیوں کے خلاف جارہے ہیں۔ سینئر کانگریس لیڈر ہنمنت راؤ نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی سماج کے تمام طبقات بالخصوص مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے معاملے میں اپنے عہد کی پابند ہے ، بالخصوص بی سی طبقات کی ترقی کیلئے اسمبلی میں 42% تحفظات سے متعلق جو قرارداد منظور کی گئی ہے، وہ تاریخی اقدام ہے۔ بی سی طبقات تحفظات میں توسیع کرنے پر چیف منسٹر ریونت ریڈی سے اظہار تشکر کرتے ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ کانگریس پارٹی ہائی کمان سرکاری اور تنظیمی سطح پر بی سی طبقات کے ساتھ مکمل انصاف کرے گی۔ 2