ریاست میں ٹھوک تجارت گجراتی، راجستھانی اور دیگر ریاستوں کے تاجرین کے ہاتھوں میں
حیدرآباد۔31جولائی (سیاست نیوز) گورنر مہاراشٹرامسٹر بھگت سنگھ کوشیاری کے گجراتی اور راجستھانی ریمارک نے مہاراشٹرا میں ہلچل پیدا کردی ہے لیکن تلنگانہ کے حالات بھی کچھ ایسے ہی ہیں بلکہ گورنر مہاراشٹرا کے الفاظ تلنگانہ پر بھی صادق آتے ہیں۔ تلنگانہ میں ٹھوک تجارتی امور کا جائزہ لیا جائے تو تلنگانہ میں ٹھوک تجارتی سرگرمیوں پر گجراتی‘ راجستھانی ‘ مدھیہ پردیش ‘ اترپردیش اور بہار کے تاجرین کا ہی قبضہ ہے جبکہ تلنگانہ کے ٹھوک تاجرین کا فیصد ایک بھی نہیں رہ گیا ہے۔ ریاست میں سونے چاندی کی بازار ہویا لوہے اور ہارڈ وئیر کا مارکٹ‘ اجناس کے کاروبار ہوں یا دالوں کے کاروبار‘ لیدر گڈس ہوں یا آرٹیفیشل زیورات ‘ الکٹرانک اشیاء ہوں یا ریڈی میڈ گارمنٹس تیل ہویا پلائی ووڈ ان تمام تجارتوں پر گجراتی ‘ راجستھانی ‘ مدھیہ پردیش ‘ اترپردیش‘ بہار کے تاجرین کا قبضہ ہے جو ٹھوک کاروبار کرتے ہیں جبکہ چلر فروشی میں تلنگانہ کے تاجرین ہیں۔ گجراتی اور راجستھانی مخصوصی تجارتی برادری تمام تجارتی سرگرمیوں پر اپنا دبدبہ برقرار رکھنے کے لئے کوشش کرتی ہے اور ان تمام کاروبار جن میں کروڑہا روپئے کے لین دین ہوتے ہیں اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہیں۔ تیل ‘ دال اور شکر کے کاروبار میں ٹھوک تجارت کرنے والوں میں راجستھانی تجارتی طبقہ ہے اور یہی طبقہ باسمتی چاول کی تجارت کرتا ہے جبکہ سونا مسوری چاول کی تجارت میں مقامی تلنگانہ کے تاجرین ہیں۔ راجستھانی اور گجراتی تاجرین کمپنیوں کی ایجنسیز چلاتے ہوئے 1یا2 فیصد پر کاروبار کے حق میں نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنی مرضی کی قیمتوں کے تعین کو یقینی بناتے ہوئے منافع حاصل کرتے ہیں۔ لیدر گڈس جیسے جوتے‘ چپل‘ بیاگ وغیرہ کے کاروبار اترپردیش اور پنجابی تاجرین کے کنٹرول میں ہیں جبکہ پلائی ووڈ کا ٹھوک کاروبار بھی اترپردیش اور بہار کے ٹھوک تاجرین کے کنٹرول میں ہے۔ ملک کی بیشتر ریاستوں میں گجراتی ‘ راجستھانی اور مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے تاجرین اور مخصوص تجارتی طبقہ کے دبدبہ کے سلسلہ میں اب جنوبی ہند کی ریاستوں میں تاجرین کی جانب سے یہ کہا جا رہاہے کہ شمالی ہند کی ریاستوں کے تاجرین جو ٹھوک تجارت پر قبضہ کئے ہوئے ہیں انہیں حاصل سیاسی سرپرستی کے سبب وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں اور گذشتہ 6تا8برسوں کے دوران انہیں حاصل ہونے والی سرپرستی میں جو اضافہ ہوا اس کے نتیجہ میں وہ مقامی تاجرین کے کاروبار کو بھی متاثر کرتے ہوئے اپنے کاروبار کو وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد وسکندرآباد کے ٹھوک بازاروں میں بھی گجراتی و راجستھانی ٹھوک تاجرین کے قبضہ سے مقامی تاجرین کو چلر فروشی یا بڑی کمپنیوں کی ایجنسیوں کے حصول پر اکتفاء کرنا پڑرہا ہے۔ تاجرین کے مطابق عام شہریوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تیل کے کاروبار تلنگانہ کے تاجرین کے ہاتھ میں ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ٹھوک تاجرین گجراتی اور راجستھانی ہی ہیں اور جو تلنگانہ تاجرین تیل کے کاروبار میں نظر آتے ہیں وہ دراصل ان کی ایجنسیاں چلاتے ہیں۔تلنگانہ ٹریڈرس کا کہنا ہے کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد انہیں توقع تھی کہ ریاست تلنگانہ میں ریاست کے تاجرین کو اپنی تجارت کے فروغ کا موقع حاصل ہوگا لیکن ایسا نہیں ہوپایا بلکہ تشکیل تلنگانہ کے بعد سے تلنگانہ تاجرین کے کاروبار محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔م