آنجہانی این ٹی آر کے ساتھ غیر شائستہ سلوک کرنے کے تاریخی واقعہ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے
حیدرآباد۔ 27 اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ نے کہا کہ دستوری حدود میں کام کرنے والا گورنر نظام راستہ بھٹک رہا ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں گورنرس حکومتوں سے ٹکراؤ کی پالیسی اپنا رہے ہیں۔ حیدرآباد میں منعقدہ ٹی آر ایس کے یوم تاسیس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹرنے گورنر نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کے سی آر نے کہا کہ مہاراشٹرا کے گورنر نے ایک اہم فائیل کو روک کر ر کھا ہے۔ تاملناڈو میں بھی ایک بل کی یہی صورتحال ہے۔ مہاراشٹرا، مغربی بنگال، کیرالا کے علاوہ دوسری ریاستوں میں گورنرس حکومتوں سے ٹکرا رہے ہیں۔ آنجہانی این ٹی آر نے جب نئی پارٹی تشکیل دی تھی ہم سب ان کے ساتھ مل کر کام کرچکے ہیں۔ مکمل اکثریت کے ساتھ این ٹی آر نے اقتدارحاصل کیا تھا۔ تب بھی گورنر نے غلط کام کرتے ہوئے گورنر نظام کو استعمال کیا۔ بہترین خدمات انجام دینے والے این ٹی آر کو اقتدار سے بے دخل کردیا۔ اس کے بعد کیا ہوا سب جانتے ہیں۔ یہ کوئی رامائن کی کہانی نہیں ہے بلکہ حیدرآباد کی سرزمین پر پیش آیا واقعہ ہے۔ سب کچھ ہم تصور کرنے والی کانگریس حکومت کی گردن جھکاکر این ٹی آر کو دوبارہ اقتدار پر پہنچا دیا گیا۔ این ٹی آر کے ساتھ غیر شائستہ سلوک کرنے والے گورنر کو بے دخل کرتے ہوئے رسوا کرکے ریاست سے بھگا دیا گیا۔ جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے اور اس سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر اب کیا ہو رہا ہے۔ عجیب و غریب صورتحال نظر آرہی ہے۔ انہوں نے دستوری عہدے کا بیجا استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ ن