گورنر کے عہدہ کی توہین کی شکایت ،بی جے پی کارکن قرار دینے پر مجھے دکھ ہوا، کسی خاتون کے احترام کا کیا یہی طریقہ ہے؟
حیدرآباد۔7 ۔ اپریل (سیاست نیوز) گورنر تلنگانہ ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے آج نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی اور ریاست کی تازہ ترین صورتحال سے واقف کرایا۔ ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ سے بات چیت کی تفصیلات برسر عام نہیں کریں گی ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تلنگانہ عوام کی بھلائی کے مسئلہ پر بات چیت کی ہے کیونکہ گورنر کی حیثیت سے ان کی اولین ترجیح ریاست کے عوام کی بھلائی ہے۔ گورنر نے پھر ایک مرتبہ کے سی آر حکومت کی جانب سے انہیں نظر انداز کرنے اور مبینہ طور پر توہین کی شکایت کی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کے بعد مرکزی وزیر دا خلہ امیت شاہ کو گورنر نے حکومت کی جانب سے نظر انداز کرنے اور پروٹوکول کی خلاف ورزی کی تفصیلات سے واقف کرایا ۔ میڈیا کے سوالات پر گورنر نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ کو انہوں نے ریاست کی صورتحال سے واقف کرایا ہے۔ میں ہمیشہ تعمیری سوچ کی حامل ہوں اور جو کچھ بھی کہا تلنگانہ عوام کے حق میں کہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے گورنر کے عہدہ کو نظرانداز کرنے کی شکایت کرتے ہوئے سوندرا راجن نے کہا کہ تلنگانہ میں گورنر کو سفر کرنا ہے تو سڑک کا راستہ بھی تنگ ہوجاتا ہے ۔ گورنر کی توہین کیوں کی جار ہی ہے عوام خود اس بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں۔ گورنر نے سوال کیا کہ کیا میں نے بی جے پی کا پرچم تھام رکھا ہے یا بی جے پی کارکنوں کے ساتھ دورہ کر رہی ہوں ؟ انہوں نے کہا کہ چیف سکریٹری سومیش کمار کو مجھ سے ملاقات کرتے ہوئے مسائل پر بات کرنی چاہئے ۔ گورنر نے انہیں بی جے پی کارکن قرار دینے پر سخت اعتراض جتایا اور کہا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کرتی ہیں۔ اگر میرے بارے میں کچھ شبہات ہیں تو پوچھیئے میں اس کا جواب دوں گی ۔ گورنر نے کہا کہ یوم جمہوریہ تقریب میں چیف منسٹر نے شرکت نہیںکی، کیا یہی میرا احترام ہے ؟ اگادی تقاریب کے لئے میں نے دعوت نامہ روانہ کیا ، چیف منسٹر ، ریاستی وزراء کے علاوہ 119 ارکان اسمبلی میں سے کسی نے شرکت نہیں کی۔ کیا یہی گورنر کا احترام ہے ؟ انہوں نے میڈیا سے کہاکہ وہ گورنر کے عہدہ کی توہین کے بارے میں حکومت سے سوال کریں۔ سوندرا راجن نے کہا کہ حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی اگادی تقریب میں شرکت نہیں کی۔ یہ سوندرا راجن کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ گورنر کے عہدہ کی توہین ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 11 اپریل کو بھدرا چلم سڑک کے راستہ روانہ ہوں گی جہاں مندر میں حاضری دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سمکا سارا لماں فیسٹول میں شرکت کے لئے جانے پر کلکٹر اور ایس پی نے ان کا استقبال نہیں کیا ۔ گورنر نے کہا کہ راج بھون کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر ، ریاستی وزراء اور چیف سکریٹری کسی بھی وقت آسکتے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ میں ایک ذمہ دار عہدہ پر فائز ہوں ، ہر کسی کے ساتھ میل جول اور ملنساری میرا شیوہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں گورنر نے کہا کہ وہ سڑک یا ٹرین کے ذریعہ سری رام نومی تقاریب میں حصہ لینے بھدرا چلم جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 5 گھنٹے طویل سفر کرتے ہوئے میڈارم جاترا میں شریک ہوچکی ہیں۔ سوندرا راجن کا کہنا ہے کہ راج بھون کا کسی پارٹی سے تعلق نہیں ہوتا، باوجود اس کے کہ عوامی نمائندوں نے اگادی تقریب میں شرکت نہ کرتے ہوئے گورنر کے عہدہ کی توہین کی ہے۔ مجھے اپنے احترام سے زیادہ گورنر کے عہدہ کے احترام کی فکر ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایک خاتون کو عزت دینے کا کیا یہی طریقہ ہے؟ کیا اپنی بہن کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کیا جاتا ہے ؟ ر