گولکنڈہ قلعہ میں دن ہاڑے نوجوان یوٹیوبر کا قتل

,

   

چاندی مسعود کا سسرالی رشتہ داروں نے گھر میں گھس کر کام تمام کردیا ۔ والد بھی زخمی
حیدرآباد : /12 جون (سیاست نیوز) قلعہ گولکنڈہ میں دن دھاڑے قتل کی سنگین واردات پیش آئی جہاں ایک یوٹیوبر انفلوئنسر چاندی مسعود کا بے رحمانہ قتل کردیا گیا ۔ بتایا گیا کہ سسرالی رشتہ داروں نے شیخ محبوب عرف چاندی مسعود کا گھر میں گھس کر قتل کردیا ۔ اس واردات کے بعد قلعہ گولکنڈہ میں سنسنی پھیل گئی ۔ قتل کی واردات نے پولیس گولکنڈہ کی چوکسی کی قلعی کھول دی ۔مقامی عوام نے پولیس پر غنڈہ عناصر کی پشت پناہی اور مسائل کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا ۔ پولیس کو شبہ ہے کہ حملہ آور نشہ میں دھت تھے ۔ قلعہ گولکنڈہ کے کمہارواڑی چھوٹا بازار میں واقع چاندی مسعود کے مکان میں داخل ہوکر یہ واردات انجام دی گئی ۔ اپنے بیٹے کو حملہ آواروں سے بچانے ماں باپ کی کوششیں بے فیض رہیں ۔ مسعود کو بچانے کی کوشش میں ان کے والد بھی زخمی ہوگئے جبکہ چاندی مسعود کی والدہ حملہ آواروں کو روکنے کی کوشش کررہی تھی لیکن حملہ آواروں نے جو والدین کے سامنے جوان بیٹے کا قتل کردیا اور فرار ہوگئے ۔ چاندی مسعود کی شادی تقریباً دیڑھ سال قبل ہوئی تھی اور اطلاعات کے مطابق 6 ماہ کا لڑکا بھی ہے ۔ سسرالی رشتہ داروں اور چاندی مسعود میں تنازعہ چل رہا تھا ۔ اس کی اطلاع کے بعد پولیس عہدیدار گولکنڈہ زون کے اڈیشنل ڈی سی پی کرشنا ایا کمہارواڑی پہنچ گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ شیخ محبوب عرف چاندی مسعود کا قتل کردیا گیا ۔ اڈیشنل ڈی سی پی نے بتایا کہ شیخ محبوب پیشہ سے الیکٹریشن تھا اور سوشل میڈیا انفلوئنسر تھا ۔ دیڑھ سال قبل چاندی مسعود نے لومیارج کی تھی اور اس کا 6 ماہ کا لڑکا ہے ۔ چاندی مسعود پر اس کے برادر نسبتی سہیل اس کے ساتھ ابو اور جابر کے حملہ کرنے کی ابتدائی اطلاعات ہیں ۔ تاہم مقتول کے والد کا کہنا ہے کہ کل 6 افراد بشمول ایک خاتون اس حملہ میں شامل تھے ۔ چاندی مسعود کے والد نے بتایا کہ ان کے لڑکے کا سسرال سے تنازعہ چل رہا تھا ۔ چاندی مسعود پر لڑکی کو چھوڑنے کا دباؤ ڈالا جارہا تھا اور لڑکی پر خلع لینے بھی ان کے بھائی دباؤ ڈال رہے تھے ۔ انہوں نے خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ واضح رہے کہ قلعہ گولکنڈہ میں پولیس پر لاپرواہی اور مخصوص افراد کے اشاروں پر کام کے الزامات ہیں ۔ غیر سماجی عناصر کے خلاف آواز اٹھانے اور ان کے خلاف شکایت سے عام شہری دلچسپی نہیں دکھاتے چونکہ پولیس میں شکایت کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ شکایت کرنے والا خود شکار بن جاتا ہے ۔ قلعہ میں کھلے عام گانجہ ، نشہ آوار گولیوں اور دیگر نشیلی اشیاء کا استعمال عام ہونے کے سبب نوجوان نسل تباہ ہورہی ہے ۔ پولیس کمشنر کو چاہئے کہ وہ اس علاقہ پر خصوصی توجہ مرکوز کریں ۔عy/