اگر کبھی ایسا ہو کہ آپ بیٹھے بیٹھے بور ہو رہی ہوں یا آپ کوئی تبدیلی اور کوئی نئی مصروفیت چاہتی ہوں تو اپنے گھر اور کمروں کی سجاوٹ پر توجہ دیں ہو سکتا ہے کہ ماحول کی یکسانیت نے آپ کو بور کر دیا ہو لہٰذا یہ تبدیلی آپ کے مزاج پر خوشگوار اثر ڈالے گی تو چلیں پھر اْٹھیں اور اپنے گھر کی تزئین و آرائش کریں اور سب سے پہلے پردوں کو تبدیل کریں کیونکہ یہ کسی بھی گھر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ پردے جہاں گھر کی اہم ضرورت ہیں وہیں گھر میں خوبصورتی کا احساس بھی اْجاگر کرتے ہیں۔اور اب ان کو باقاعدہ آرائشی اشیاء میں شمار کیا جانے لگا ہے،کیونکہ گھر کو دیدہ زیب بنانے کیلئے پردوں کا استعمال ہر کونے کیلئے ضروری سمجھا جانے لگا ہے۔ اس سے کمرے کی خوبصورتی میں بھی واضح فرق پڑتا ہے۔دیواروں کو خوبصورت ظاہر کرنے اور گھر کی دلکشی میں اضافے کیلئے مختلف انداز میں سادہ دیوار پر دو طرفہ پردے بھی لگائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اب کچن یہاں تک کہ باتھ روم میں بھی پردے کا استعمال وہاں کی خوبصورتی میں اضافہ کر دیتا ہے۔
پردوں کی اقسام : پردوں کو دو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔نرم اور سخت،نرم قسم کے پردوں کی تیاری میں ہلکی اور نرم اشیاء مثلاً ریشمی،سوتی یا جالی دار ہر طرح کا کپڑا استعمال ہوتا ہے۔جب کہ سخت قسم کے پردے پلاسٹک،لکڑی اور بیڈ موتی وغیرہ پرو کر لڑیوں کی شکل کا پردہ اور اسی طرح کی دوسری اشیاء کی مدد سے تیار کئے جاتے ہیں۔ سخت قسم کے پردے یعنی پلاسٹک اور دھات کے پردے ’’بلائنڈز‘‘ کہلاتے ہیں۔یہ زیادہ دفاتر میں استعمال ہوتے ہیں،کیونکہ یہ جلد میلے نہیں ہوتے۔لیکن اب ان کا استعمال گھروں میں بھی ہونے لگا ہے۔ان کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ پائیدار ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ پردوں کی درج ذیل اقسام ہیں جو آپ کے گھر کو سجانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
چنٹوں والے پردے: یہ نفیس پردے آپ کی خواب گاہ میں بہت دل آویز دکھائی دیتے ہیں۔ شفاف رنگوں کے پردے اگر آپ کسی کمرے کو بہت زیادہ ذاتی نہ تصور کرتے ہوں تو شفاف پردے لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
جھالروں والے پردے: آج کل لوگ لاؤنج میں بھی جھالروں والے پردے لگانے لگے ہیں۔یہ جھالر منقش بھی ہو سکتی ہے۔رلی یا مخملی سے کپڑے کی جھالریں یا آئینے جڑی ہوئی جھالریں بیل کی طرح بھی سجائی جا سکتی ہے۔
ڈبل پردے: ڈبل پردوں کا انتخاب ان کمروں کیلئے زیادہ موزوں رہتا ہے جن کی کھڑکیاں ہوا دار اور روشنی کی سمت میں کھلتی ہوں تاکہ بوقتِ ضرورت روشنی سے استفادے کرنے کیلئے گہرے رنگ کے پردے ہٹے رہیں اور باریک سفید پردوں سے روشنی کمروں میں داخل ہوتی رہے۔ جب روشنی اور تازہ ہوا کی ضرورت نہ ہو تو دہرا پردہ لٹکا دیا جاتا ہے۔ اب آپ کے بجٹ پر منحصر ہے کہ آپ مون مارکیٹ جاتی ہیں،پینوراما یا کسی مال میں جاتی ہیں یا پھربازار کا رُخ کرتی ہیں۔ویسے اگر آپ بازار جانے کا فیصلہ کریں تو بہت کم قیمت میں آپ بہت اچھے اور خوبصورت پردے خرید سکتی ہیں اور پھر آپ انھیں اپنی خواہش کے مطابق سلوا بھی سکتی ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گھر کے پردوں سے ہی گھر والوں کے دوق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے یعنی وہ لوگ سلیقہ والے ہیں یاپھوہڑ بعض جگہ ہم نے خود دیکھا ہے کہ پردوں کے ڈیزائن اتنے بے تک اور بھدے ہوتے ہیں کہ اُن سے گھروں کی خوبصورتی سنورنے کے بجائے بگڑ جاتی ہے ۔ جبکہ اوپر کی سطور میں کہا گیا ہے کہ اکثر لوگ اپنی خواب گاہ کے پردوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں کیونکہ میاں بیوی کیلئے وہی ایک رومانٹک جگہ ہوتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دیگر کمروں کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہر کمرہ کی اپنی ایک شان ہوتی ہے جسے مزید دوبالا کرنے کیلئے یہی پردے اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ پردوں کی سب سے اچھی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ مہنگے نہیں ہوتے ہیں اور ہر بجٹ والے انسان کی قوت خریدمیں ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ یہ ہے کہ ریشمی ، سوتی اور جالی دار ہر اقسام کے پردے اس وقت بازار میں دستیاب ہیں اور آپ کی دسترس سے باہر بھی نہیں۔
٭٭ ٭ ٭٭