موجودہ چیف الیکشن کمشنر کیا بی جے پی کے ’ بھرتی ایجنٹ ‘ تھے ۔ ججی تھامسن کے انٹرویو کے بعد الزامات میں شدت
تھرواننتا پورم 26 ستمبر ( ایجنسیز ) چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے تعلق سے ایک اور سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے جس میں سابق چیف سکریٹری کیرالا مسٹر ججی تھامسن نے دعوی کیا کہ 2016 میں ہی گیانیش کمار نے انہیں بی جے پی میں شامل ہوجانے کا مشورہ دیا تھا اور لوک سبھا کیلئے مقابلہ کرنے بی جے پی ٹکٹ کی پیشکش کی تھی ۔ جیجی تھامسن نے ایک ملیالم روزنامہ کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے ۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب چیف الیکشن کمشنر پر پہلے ہی ملک بھر میں تنقیدیں ہو رہی ہیں کیونکہ یہ انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے ایس آئی آر سے متعلق کئی اہم فیصلے یکطرفہ طور پر کئے ہیں اور ساتھی الیکشن کمشنران کو نظر انداز کیا ہے ۔ مسٹر تھامسن نے 2015 سے 2016 کے درمیان کیرالا کے چیف سکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام د ی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ دہلی جا رہے تھے پرواز کے دوران گیانیش کمار نے انہیں بی جے پی میں شامل ہونے اور لوک سبھا کیلئے مقابلہ کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔ تھامسن نے کہا کہ راست پیشکش کرنے سے قبل مسٹر گیانیش کمار نے وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کا تذکرہ کیا تھا ۔ مسٹر تھامسن نے کہا کہ گیانیش کمار نے کھلے عام ان سے کہا کہ آیا وہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں پتنم تھٹاحلقہ سے بی جے پی ٹکٹ پر مقابلہ کرنے تیار ہیں ؟ ۔ تھامسن کے بموجب مسٹر گیانیش کمار نے انہیں ترغیب دینے کی کافی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کردیا تھا ۔ تھامسن نے کہا کہ اس وقت ان کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کیلئے دوسری جماعتیں بھی کوشش کر رہی تھیں اور اسی کے پیش نظر گیانیش کمار نے انہیں بی جے پی میں شامل ہونے کا مشورہ دیا تھا ۔ مسٹر تھامسن کے الزامات سے گیانیش کمار پر بی جے پی کی کٹھ پتلی کے طور پر کام کرنے کے الزامات درست ثابت ہو رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیر اعظم مودی ‘ وزیر داخلہ امیت شاہ نے انہیں اپنی مرضی سے منتخب کیا ہے تاکہ بی جے پی کے انتخابی مفادات کا تحفظ کیا جاسکے ۔ یہ انکشاف ایسے وقت ہوا ہے جب گیانیش کمار کے خلاف سارے ملک میں برہمی کی لہر پائی جاتی ہے اور اپوزیشن جماعتیں ان کے استعفے یا مواخذہ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔