گیان واپی مسجد معاملہ: مبینہ شیولنگ کی کاربن ڈیٹنگ نہیں ہوگی

,

   

کاربن ڈیٹنگ، سائنسی تحقیقات کا مطالبہ مسترد: وارانسی عدالت کا حکم
وارانسی: وارانسی کے گیان واپی کمپلیکس میں پائے جانے والے ’مبینہ شیولنگ‘ کی کوئی کاربن ڈیٹنگ نہیں ہوگی۔ پانچ ہندو خواتین نے گیانواپی مسجد کے وضوخانہ میں پائے جانے والے شیولنگ نما ڈھانچے کی عمر، لمبائی اور چوڑائی کی سائنسی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو تحقیقات کا حکم دینے کی اپیل کی گئی۔ وارانسی کے ضلع جج ڈاکٹر اجے کرشنا وشویش نے اس مطالبہ کو مسترد کر دیا۔ سماعت کے دوران کل 58 افراد کو کمرہ عدالت میں انٹری دی گئی۔ عدالت کے حکم کے بعد ہندو فریق کے وکیل شیوم گوڑ نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جس جگہ پر مبینہ شیولنگ ملا ہے اس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے ضلعی عدالت نے کاربن ڈیٹنگ یا دیگر سائنسی طریقہ سے تحقیقات کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ پہلے کی طرح درخواست دائر کرنے والی خواتین میں راکھی سنگھ عدالت میں موجود نہیں تھیں۔سماعت کے دوران باقی چار خواتین سیتا ساہو، منجو ویاس، ریکھا پاٹھک اور لکشمی دیوی موجود تھیں۔ تازہ ترین تنازعہ وارانسی کے کاشی وشوناتھ کمپلیکس میں واقع گیان وااپی مسجد احاطہ میں شرنگر گوری اور دیگر دیوتاو?ں کی روزانہ پوجا کو لے کر ہے۔ 18 اگست 2021 کو گیان واپی مسجد احاطہ میں 5 خواتین عدالت پہنچی تھیں، جنہوں نے دیوی دیوتائوں کی روزانہ کی پوجا کی اجازت مانگی تھی جن میں ماں شرنگر گوری، گنیش جی، ہنومان جی اور احاطہ میں موجود دیگر دیوتا شامل تھے۔ فی الحال یہاں پوجا سال میں صرف ایک بار ہوتی ہے۔ اس معاملے میں گیان واپی مسجد کمیٹی نے کہا تھا – مبینہ شیولنگ کی سائنسی جانچ کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندو فریق نے اپنے معاملے میں گیان واپی میں براہ راست اور بالواسطہ دیوی دیوتاو?ں کی پوجا کا مطالبہ کیا ہے۔ پھر شیولنگ کی تحقیقات کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں؟ ہندو فریق گیانواپی میں کمیشن کی جانب سے ثبوت جمع کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ کوڈ آف سول پروسیجر میں ایسی کوئی شق نہیں ہے۔ کمیٹی نے دلیل دی تھی کہ 16 مئی 2022 کو ایڈوکیٹ کمشنر کے سروے کے دوران پائے جانے والے اعداد و شمار پر ابہام ہے۔ اس سے متعلق اعتراض کا تصفیہ نہیں ہوا۔ 17 مئی 2022 کو سپریم کورٹ نے بھی اس جگہ کو محفوظ رکھنے کو کہا ہے جہاں یہ اعداد و شمار ملتے ہیں۔ ایسے میں وہاں کھودنا یا الگ سے کچھ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔