گیان واپی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت نہ دیں : کاشی دھرم پریشد

,

   

لکھنو: وارانسی کے لامہی گاوں میں واقع سبھاش بھون میں جمعہ کو کاشی دھرم پریشد کے سنتوں کی ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔ اس میٹنگ میں تمام سنتوں کی جانب سے جملہ 22 قراردادیں منظور کی گئیں جس میں عبادت گاہوں کے ایکٹ 1991 کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔پاتالپوری مٹھ کے پیتھادھیشور مہنت سوامی بالک داس نے میٹنگ کے بارے میں بتایا کہ قرار داد کی ایک کاپی صدر، وزیر اعظم اور اترپردیش کے چیف منسٹر کے ساتھ ساتھ انتظامیہ سے وابستہ تمام اعلیٰ عہدیداروں کو بھیجا جائے گا اور ان پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا جائے گا۔22 تجاویز میں سے 7 اہم تجاویزیوںہیں:عبادت گاہوں کے ایکٹ 1991 کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ گیان واپی میں پائے جانے والے آدی وشویشور کے شیولنگ کی پوجا کرنے کا حق فوراً دیا جانا چاہیے۔ سنا تن دھرم کے لوگوں کو گیان واپی میں پوجا کرنے کے ان کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔گیان واپی میں نماز پڑھنے اور مسلمانوں کے داخلے پر فوری پابندی عائد کی جائے۔شیولنگ کو فوارہ کہنے والے بیرسٹر اسد الدین اویسی جیسے لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔ملک میں جتنے بھی مذہبی مقامات گرائے گئے ہیں اور ان پر زبردستی قبضہ کیا گیا ہے، انہیں تجاوزات سے پاک کیا جائے۔سناتن دھرم کے لوگوں کی عبادت میں خلل نہیں ڈالنا چاہیے۔
عبادت گاہوں کے ایکٹ 1991 کا مطلب ہے کہ کوئی بھی مذہبی مقام اور اہمیت کی حامل عمارت اسی حالت میں رہے گی جو 15 اگست 1947 کو تھی۔ یعنی کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ کو کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔میٹنگ میں پاتالپوری مٹھ کے مہنت سوامی بالک داس نے کہا کہ ‘گیان واپی میں شیولنگ ملا ہے۔ اس کے باوجود ہمیں اپنے پیارے دیوتا کی پوجا کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ پھر وہاں نماز کیوں پڑھی جاتی ہے؟ جب ہماری عبادت پر پابندی ہے تو نماز پڑھنے پر بھی پابندی ہونی چاہیے۔بالاکداس نے کہا کہ سنت سماج مشتعل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہاں نماز پڑھی جائے گی تو ہم بھی ہر حال میں عبادت کا مطالبہ کریں گے۔ ایسے میں بہتر ہوگا کہ جب تک اس معاملے پر عدالت کا فیصلہ نہیں آتا، گیان واپی میں ہندوؤں کے ساتھ مسلمانوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی جائے۔ دونوں فریقوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔