بھینسہ ایک حساس علاقہ، آر ایس ایس کی ریالی سے کشیدگی کا اندیشہ ، سرکاری وکیل کا استدلال
حیدرآباد ۔ 18 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے آر ایس ایس کی اس درخواست کو مسترد کردیا جس میں آر ایس ایس نے 19 فبروری کو ضلع نرمل کے بھینسہ میں منعقد کئے جانے والے ’’روٹ مارچ‘‘ کی اجازت دینے کی پولیس کو ہدایت دینے کی اپیل کی تھی۔ اس ریالی کو انعقاد کرنے کی اجازت دینے سے پولیس نے انکار کردیا تھا جس کے خلاف آر ایس ایس نے ہائیکورٹ میں لنچ پٹیشن داخل کی تھی جس کا جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے جائزہ لیا۔ حکومت کے وکیل ایس رویندر نے ہائیکورٹ کو بتایا کہ آر ایس ایس کی ریالی کو اجازت نہ دینے کا پولیس نے تحریری طور پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھینسہ ایک حساس علاقہ ہے۔ ماضی میں ہائیکورٹ نے بی جے پی کو جلسہ عام منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ 19 فبروری کو مسلمانوں کی جانب سے شب معراج ریالی کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اسی دن آر ایس ایس کی جانب سے ریالی کا اہتمام کرنے سے کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ ہائیکورٹ نے درخواست گذار سے استفسار کیا کہ بھینسہ میں ہی کیوں ریالی منظم کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ کیا ریالی کا راستہ تبدیل کرنے کی کوئی گنجائش ہے سوال کیا جس پر درخواست گذار کے وکیل نے 20 فبروری یا کسی اور تاریخ کو ریالی منظم کرنے کی اجازت دینے کی اپیل کی جس کے بعد ہائیکورٹ نے حکومت سے استفسار کیا کہ کیا وہ آر ایس ایس کو ریالی منظم کرنے کی اجازت دے گی یا نہیں اس کی وضاحت کریں اور اس کیس کی آئندہ سماعت 20 فبروری تک ملتوی کردی۔ن