جئے پور۔ راجستھان ایوان مقننہ کے اسپیکر نے سچن پائلٹ کی قیادت میں کانگریس کے باغی اراکین اسمبلی کی برطرفی کے متعلق زیرالتوا ء فیصلے کے ضمن میں راجستھان ہائی کورٹ کی جانب سے سنائے گئے 24جولائی تک توسیع کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاہے۔
ایڈوکیٹ سنیل فرنانڈیز کی جانب سے داخل کردہ درخواست میں کہاگیا ہے کہ برطرفی کا عمل دسویں شیڈول کے تحت ”ایوان مقننہ کی کاروائی“ اسپیکر کے تحت ہے اور کیونکہ اس طرح سے عدالت اس میں مداخلت کی مجاز نہیں ہے۔
مذکورہ درخواست میں سپریم کورٹ کے ہالاہوہان بمقابلہ زچیلوہو(1992)کا حوالہ دیا گیاہے۔ اسپیکر نے عدالت میں پیش کیاہے کہ انہوں نے پائلٹ اوردیگر اراکین اسمبلی کو اس معاملے میں تبصرہ کرنے کے مقصد سے مدعو کیا ہے اور محض ایک نوٹس جاری کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس طرح کی نوٹس برطرفی کے فیصلے پر قطعی فیصلہ نہیں ہے مگر کاروائی کا ایک آغاز ہے۔
درخواست میں التجا کی گئی ہے کہ ”اگر اسپیکر کا قطعی فیصلہ عدالتی جائزہ محدود سطح تک قابل ترمیم ہے‘ تو یہ ناقابل فہم ہے کہ نوٹس کی تاریخ14-07-2020برطرفی پر تبصرہ کے لئے طلبی عدالتی جائزہ کا موضوع ہے۔
ارٹیکل212واضح طور پر اس طرح کے چیالنجوں کو روکتا ہے“۔ چیف منسٹر اشوک گہلوٹ سے بغاوت کے پیش نظر پائلٹ کے بشمول 19اراکین اسمبلی کو 14جولائی کے روز اسپیکر ڈاکٹر سی پی جوشی نے ایک نوٹس جاری کی تھی۔
انہیں 17جولائی کے روز1بجے تک جواب داخل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔ درایں اثناء 19اراکین اسمبلی 16جولائی کے روز ہائی کورٹ سے اسپیکر کی کاروائی کے خلاف رجوع ہوئے تھے۔
جمعہ کے روز عدالت نے کاروائی شروع کی اور اس یہ عمل تعطل کاشکار بننے کے پیش نظر مذکورہ اسپیکر جواب کے لئے دی گئی مہلت میں 21جولائی کے روز5:30تک مہلت دیدی تھی۔
ایک روز قبل چیف جسٹس راجستھان ہائی کورٹ اندرجیت موہنتی اور جسٹس پرکاش گپتا نے باغی کانگریس اراکین اسمبلی کی درخواست پر فیصلے محفوظ کردیاتھا۔
عدالت نے جانکاری دی ہے کہ وہ 24جولائی تک اپنا فیصلہ سنائے گا۔ مذکورہ عدالت نے نااہل قراردئے جانے کے متعلق عمل پر اسپیکر سے ”درخواست“ کی ہے کہ عدالت کے فیصلے تک جواب داخل کرنے کی مہلت میں توسیع کرے