ہرمز کھلا ہے اور ایران کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں: سینٹ کام

   

واشنگٹن ۔ 9 اکٹوبر (ایجنسیز) امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اس بات کی تصدیق کی ہیکہ آبنائے ہرمز بحری نقل و حمل کیلئے کھلی ہے اور اس کو بند کرنے سے متعلق ایرانی پاسداران انقلاب کے بیانات کی تردید کرتے ہوئے زور دیا ہیکہ تہران کا اس سٹریٹجک سمندری راستے پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ سینٹ کام نے العربیہ کو دیے گئے خصوصی بیانات میں کہا ہیکہ امریکی افواج آبنائے ہرمز کے علاقے میں موجود ہیں اور تجارتی جہازوں کو ضروری تحفظ فراہم کر رہی ہیں جو بحری نقل و حمل کے تسلسل اور عالمی توانائی کی فراہمی کے بہاؤ کو یقینی بنانے کی ان کی کوششوں کا حصہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی توجہ آبنائے کو کھلا رکھنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری ہے اور وہ خطے میں ہجری سیکیورٹی کے حوالے سے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مکمل ہلا جلا اور ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ سینٹ کام نے ایران پر بحری عملے کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا اور نشاندہی کی کہ امریکی افواج نے ہزاروں تجارتی جہازوں کو خطرات سے بچانے کیلئے ان کی پہرہ داری کی ہے۔ مزید برآں سنٹرل کمانڈ نے آبنائے پر کنٹرول کے حوالے سے ایرانی بیانات کی مصداقیت پر شک کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ میدانی حقائق پاسداران انقلاب کے اسے بند کرنے کے اعلان کی تائید نہیں کرتے۔بحری سکیورٹی سے متعلق ایک پیش رفت میں سینٹ کام نے اعلان کیا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز میں ایران کی بچھائی گئی سمندری بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ سنٹرل کمانڈ نے یہ نہیں بتایا کہ کتنی بارودی سرنگیں ہٹائی گئیں یا وہ کن مقامات سے ملی تھیں لیکن اس نے جہازوں کی حفاظت اور ان کی آزادانہ نقل و حمل کو یقینی بنانے کی کوششوں کو جاری رکھنے پر زور دیا۔ اس نے انکشاف کیا کہ 1.1 ارب بیرل سے زیادہ تیل آبنائے ہرمز سے گزرا ہے۔ سینٹ کام نے اس اعداد و شمار کیلئے وقت کی مدت کی نشاندہی نہیں کی۔ اس نے تصدیق کی کہ آبنائے کے ذریعہ تیل کا بہاؤ جنگ سے پہلے درج کی گئی سطح کے قریب پہنچ رہا ہے جو دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک کے ذریعہ توانائی کی ترسیل کی بہتری کا اشارہ ہے۔
آبنائے ہرمز تیل اور گیس کی تجارت کیلئے ایک حیاتیاتی شریان کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ خلیج عرب کو خلیج عمان اور بحر عرب سے جوڑتی ہے اور عالمی منڈیوں کی طرف جانے والی توانائی کی کھیپیں اس سے گزرتی ہیں۔ٹینکروں کی نقل و حمل کا دوبارہ آغاز خاص اہمیت رکھتا ہے خاص طور پر ان خدشات کے پیش نظر جو جنگ نے سپلائی کی سکیورٹی اور جہاز رانی اور سمندری انشورنس کے اخراجات میں اضافے کے حوالے سے پیدا کیے تھے۔
ہرمز کے ذریعہ بحری سفر کے تسلسل کی تصدیق کے متوازی امریکی سنٹرل کمانڈ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی پختہ اور مؤثر ہے۔ سینٹ کام نے کہا ہیکہ امریکی افواج کی اجازت کے بغیر کوئی بھی جہاز ایران پر لگائے گئے بحری حصار کو عبور نہیں کر سکتا۔ یہ بیانات ایک طرف ایران کے خلاف امریکی اقدامات اور دوسری طرف آبنائے ہرمز کے ذریعہ تجارتی بحری سفر کے تسلسل کے درمیان فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک طرف سینٹ کام اس بات کی تصدیق کرتی ہیکہ وہ ناکہ بندی میں شامل جہازوں کی نقل و حمل پر سخت پابندیاں عائد کرتی ہے وہیں دوسری طرف اس بات پر بھی زور دیتی ہیکہ آبنائے ہرمز تجارتی بحری نقل و حمل کیلئے کھلی رہے گی۔