ہریانہ میں زہریلی شراب پینے سے 19 افراد ہلاک، 7 گرفتار

   

چنڈی گڑھ: ہریانہ میں مشتبہ زہریلی شراب پینے سے کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں 7افرادکو گرفتار کیا ہے۔ اس معاملے میں یمنا نگر اور پڑوسی انبالہ ضلع کے منڈی باڑی، پنجیتو کا ماجرا، پھس گڑھ اور سرن گاؤں میں جعلی شراب پینے سے اموات ہوئی ہیں۔ جس کے بعد مشتعل گاؤں والے شراب کے تاجروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔زہریلی شراب پینے سے ہونے والی اموات کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے ہلاکتوں پر منوہر لال کھٹر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن نے ہریانہ حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس سے پہلے کے اسی طرح کے واقعات سے سبق سیکھنے میں ناکام رہی ہے۔زہریلی شراب پینے سے مرنے والوں میں ایک 70 سالہ شخص بھی شامل ہے۔ پولیس اب تک سات مشتبہ افراد کو گرفتار کر چکی ہے اور دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ پولیس نے کہا کہ اتر پردیش کے دو تارکین وطن مزدور جمعرات کو انبالا میں مشتبہ طور پر غیر قانونی طور پر تیار کی گئی جعلی شراب پینے کے بعد مر گئے۔انبالہ پولیس نے ایک بند فیکٹری میں تیار کی گئی زہریلی شراب کے 200 ڈبوں کو ضبط کیا ۔پولیس نے 14 خالی ڈرم اور غیر قانونی شراب بنانے میں استعمال ہونے والا مواد بھی ضبط کیا۔ یمنا نگر پولیس نے کیس کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔