چنڈی گڑھ: ہریانہ کے وزیر کھیل اور ہاکی انڈیا کے سابق کپتان سندیپ سنگھ نے اپنے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد اتوار کو وزارتی عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ سندیپ سنگھ نے اپنا استعفیٰ وزیر اعلیٰ منوہر لال کو سونپ دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ نہیں آتی وہ اپنا استعفیٰ محکمہ کھیل وزیر اعلیٰ کے حوالے کر رہے ہیں۔چنڈی گڑھ پولیس کے ترجمان رام گوپال کے مطابق شکایت موصول ہونے کے بعد مسٹر سنگھ کے خلاف ہفتہ کو سیکٹر 26 پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند کی دفعہ 354، 354اے ، 354بی، 342، 506 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے ۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا تھا کہ وزیر نے اسے بری نیت سے چھوا تھا۔ہریانہ کے وزیر کھیل نے اپنے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد اپنا استعفیٰ وزیر اعلیٰ کو پیش کر دیا۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ مجھے پھنسایا جا رہا ہے اور مجھ پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور سراسر جھوٹے ہیں۔ایک ٹویٹ میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کھیل کے وزیر سنگھ نے کہاکہ “ان کی شبیہ کو خراب کرنے کے لیے ماحول بنایا گیا تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ محکمہ کھیل کے کوچ کی جانب سے ان پر لگائے گئے جھوٹے معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے ۔ انکوائری رپورٹ آنے تک وہ اپنا محکمہ کھیل وزیر اعلیٰ کے حوالے کر دیں گے ۔ْخواتین کوچ کی شکایت کے بعد اپوزیشن لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا نے مسٹر سنگھ کے خلاف درج کیس کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔سال 2016 کے ریو اولمپکس میں بطور ایتھلیٹ حصہ لے چکی کوچ نے الزام لگایا کہ مسٹر سنگھ نے انہیں انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ پر پیغامات بھیجے اور اسنیپ چیٹ پر یکم جولائی کو کال کرکے اسے کچھ دستاویزات کے ساتھ چنڈی گڑھ کے سیکٹر 7 میں واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ پر بلایا تھا۔ جہاں وزیر کھیل نے ان کے ساتھ مبینہ طور پر چھیڑ چھاڑ کی۔