ہریش راؤ نے 1000 کروڑ روپئے کا لینڈ اسکام کا الزام عائد کیا

   

سرکاری اراضی خانگی افراد کے نام منتقل کی گئی ، ایس آئی ٹی تشکیل دینے یا سی آئی ڈی تحقیقات کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 26 مئی (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ نے شمس آباد منڈل کے پیدا شاہ پور گاؤں میں تقریباً 1000 کروڑ روپئے مالیتی 170 ایکڑ سرکاری اراضی کو غیرقانونی طور پر خانگی افراد کے نام منتقل کرنے کا ایک بڑا اسکام بے نقاب کیا ہے۔ تلنگانہ بھون میں سابق وزراء سبیتا اندرا ریڈی، ستیہ ورتی راتھوڑ و دیگر قائدین کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ شمس آباد کے آر ڈی او نے پہلے ہائیکورٹ میں واضح طور پر حلف نامہ داخل کرکے بتایا تھا کہ پیدا شاہ پور کی یہ 170 ایکڑ اراضی سرکاری ہے، لیکن اس کے باوجود صرف چار دن کے اندر وہاں کے مقامی تحصیلدار نے آر ڈی او کے احکامات کی کھلی خلاف وزی کرکے اس کو خانگی اراضی کے طور پر منتقل کرنے کا شرمناک حکم جاری کردیا۔ ہریش راؤ نے تحصیلدار کی کارروائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک معمولی تحصیلدار میں اتنی ہمت کہاں سے آئی کہ وہ آر ڈی او اور ہائیکورٹ کے حلف نامہ کو بالائے طاق رکھ کر راتوں رات اس زمین کو بھوبھارتی پورٹل پر خانگی اراضی کے طور پر درج کردیں؟ ہریش راؤ نے اس اسکام کے پیچھے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے اتنہائی قریبی اور بااثر شخص کا ہاتھ ہونے کا دعویٰ کیا جو اس پورے معاملے میں تحصیلدار کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرم چھپانے کیلئے تحصیلدار کا تبادلہ تو کردیا گیا، لیکن اب تک کوئی سخت کارروائی نہیں کی گئی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس بدعنوانی کے تانے بانے بہت اوپر تک جڑے ہیں۔ ہریش راؤ نے اس اراضی اسکام کی تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے یا سی آئی سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔2KJ