مسجد رحیم آباد میدک میں تکمیل حفظ قرآن تقریب ، مولانا محمد جاوید علی حسامی و دیگر کا خطاب
میدک۔ 26 جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) معروف عالم دین ناظم مدرسہ عربیہ مدینتہ العلوم میدک مولانا محمد جاوید علی حسامی نے کہا کہ جس طرح انسان اپنے جسم کی غذا یعنی کھانے پینے کی فکر کرتا ہے، اسی طرح روح کی غذا اور اس کی تقویت کی فکر کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کی تلاوت، ذکرالٰہی اور نماز روح کی بہترین غذا ہے جس کے ذریعہ انسان دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔ مولانا، مسجد رحیم آباد میں جناب محمد صوفی حسین (ایف ایم پیراڈائز ہوٹل) کی صاحبزادی امرین نکہت کی حفظ القرآن کی تکمیل کے موقع پر منعقدہ روح پرور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ مولانا نے کہا کہ ماہ صفرالمظفر کو منحوس سمجھنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مدینتہ العلوم نے گزشتہ 24 سال میں 192 حفاظ و حافظات قرآن تیار کرکے ایک عظیم دینی خدمت انجام دی ہے۔ یہ اُمت مسلمہ کیلئے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر مولانا میر مجاہد علی ندوی نے کی۔ مولانا حامد علی نے کہا کہ ہر خاندان میں کم از کم ایک حافظ قرآن یا عالم دین ضرور ہونا چاہئے تاکہ دینی تعلیمات، نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں۔ استاد مدرسہ مفتی حافظ عبیدالرحمن جاوید نے کہا کہ ایک لڑکی کا حافظہ قرآن یا عالمہ بننا صرف اس کی ذاتی سعادت نہیں بلکہ پورے خاندان میں علم دین اور ہدایت کی روشنی پھیلنے کا ذریعہ بننا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حافظ قرآن کو قیامت کے دن قریبی عزیزوں میں سے دس افراد کی سفارش کا شرف حاصل ہوگا۔ جبکہ حافظ قرآن کے والدین کو عزت کے طور پر ایسا نورانی تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی رشنی سے بھی زیادہ ہوگی۔ قرآن حکیم کو صرف سجا کر رکھنے والی کتاب نہ سمجھیں بلکہ اسے روزانہ سمجھ کر پڑھیں۔ اس کی تعلیمات پر عمل کیا جائے اور اس کا پیغام دوسروں تک پہنچایا جائے۔ تقریب کا آغاز استاذ مدرسہ حافظ اعجاز بیگ کی قرأت کلام پاک اور حافظ عبدالواسع کی نعت شریف سے ہوا۔ اس تقریب میں حافظ قرآن کے والد محمد صوفی حسین ، دادا الحاج عبدالرحیم، رشتہ دار محمد حسین، عبداللہ، حافظ عبدالرحمن، استاذ مدرسہ مولانا شعیب احمد ، حافظ شفیع اللہ حسینی ، عابد حسین ، مجیب راجہ، خواجہ سہیل محی الدین، محمد سمیع الدین، مفتی صابر علی قاسمی، مولانا حسن محمود، عبدالقدیر، مولانا محمد اسلم، حافظ خلیل الدین کے علاوہ معززین شہر شجیع الدین قابل، ڈاکٹر محمد یوسف، عبداللطیف، محمد ہاشم، شیخ فضل احمد ایڈوکیٹ ڈاکٹر عمر خان عکاز، مجید الدین مجیب، محمد حمیدالدین جمیل، سید عشرت علی صفی، محمد صوفی جانی، مرزا احمد علی بیگ، عبدالرؤف، صادق علی خان، محمد فاضل، امیر بیگ، سمیع اللہ خان لالو ، سید اسرار کے علاوہ دیگر معززین کی بڑی تعداد موجود تھی۔