ہمارے معاشرہ کی چند عام برائیاں

   

حضور اکرمﷺ کے ارشاد کے مطابق غیبت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کے سامنے کسی کی برائیوں اور کوتاہیوں کا ذکر کیا جائے جسے وہ برا سمجھے اور اگر اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کے اندر موجود ہی نہیں ہیں تو وہ بہتان ہے لیکن بدقسمتی سے یہ دونوں ہی برائیاں عام ہیں۔ کسی مسلمان بھائی کی کسی کے سامنے برائی بیان کرنا یعنی غیبت کرنا ایسا ہی ہے جیسے مردار بھائی کا گوشت کھانا۔ بھلا کون ایسا ہوگا جو اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے غیبت سے بچنے کا حکم دیا ہے اور اس سے نفرت دلائی ہے، ارشاد باری ہے:’’تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی‘‘۔(سورۃ الحجرات۲۱)
جھوٹ: معاشرہ کی ایک مہلک بیماری جھوٹ بولنا ہے، جو بڑا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جھوٹوں پر لعنت فرمائی ہے، ان کے لئے جہنم تیار کی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے سورۂ الاحزاب میں ایمان والوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سچی بات کہا کرو۔ جھوٹ بولنے والوں کے متعلق آپ ؐکی سخت وعید ہیں، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: سچائی کو لازم پکڑو کیونکہ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور آدمی یکساں طور پر سچ کہتا ہے اور سچائی کی کوشش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کی نظر میں اس کا نام سچوں میں لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچے رہو اس لئے کہ جھوٹ گناہ اور فجور ہے اور فجور دوزخ کی راہ بتاتا ہے، اور آدمی مسلسل جھوٹ بولتا ہے اور اسی کی جستجو میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اس کا شمار جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم)
رشوت: رشوت اپنے جائز یا ناجائز مقاصدکوحاصل کرنے کے لئے اہل منصب کو روپئے یا کوئی دوسری چیز پیش کرنا۔موجودہ دور میں اس لین دین کو ہدیہ یانذرانہ کاخوبصورت نام دیاجاتاہے لیکن درحقیقت یہ رشوت ہے۔ رشوت کی مذمت اوراس کے لینے اوردینے والوں پراللہ کے رسولﷺ نے بڑی سخت وعیدیں کی ہیں، چنانچہ فرمان رسول ہے:رشوت لینے اوردینے والے پراللہ کی لعنت برستی ہے۔ (ابن ماجہ) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رشوت لینے اوردینے والا دونوں ہی دوزخ میں جائیں گے۔ (طبرانی) اسلام کی نظرمیں جس طرح رشوت لینے اوردینے والاملعون اوردوزخی ہے ۔صحابی رسول حضرت ثوبان ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے رشوت لینے اوردینے والے اوررشوت کی دلالی کرنے والے سب پرلعنت فرمائی ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ تویہاں تک فرماتے ہیں کہ قاضی کاکسی سے رشوت لے کراس کے حق میں فیصلہ کرناکفرکے برابرہے، اورعام لوگوں کاایک دوسرے سے رشوت لینا ”سُحت“ یعنی حرام ناپاک کمائی ہے۔ (طبرانی)
اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام مذکورہ برائیوں سے محفوظ رہ رکر دنیاوی فانی زندگی گزارنے والا بنائے، آمین۔