نئی دہلی : ہمالیہ۔ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں برفباری گزشتہ 23 برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ صورت حال برف کے پگھلنے سے پانی پر انحصار کرنے والے تقریباً دو ارب انسانوں کے لیے سنگین خطرہ بن رہی ہے۔ انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ (آئی سی آئی ایم او ڈی) کی پیر 21 اپریل کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں برف میں کمی کا یہ رجحان مسلسل تیسرے سال بھی جاری ہے اور خطہ میں پانی سے متعلق سلامتی داؤ پر لگا رہا ہے۔ ہمالیہ۔ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ افغانستان سے میانمار تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ آرکٹک اور براعظم انٹارکٹیکا کے بعد برف اور گلیشیئرز کے سب سے بڑے ذخائر اسی خطہ میں ہیں۔ یہ ذخائر تقریباً دو ارب انسانوں کے لیے تازہ پانی کا اہم ذریعہ ہیں، جبکہ زراعت، گھریلو استعمال اور دیگر ضروریات کے لیے بھی انہی ذخائر پر انحصار کیا جاتا ہے۔