نعمتوں کے صحیح استعمال سے نعمتوں میں اضافہ یقینی: مولانا ڈاکٹر حافظ احسن بن محمدالحمومی
حیدرآباد، 23 اکتوبر (راست) مولانا ڈاکٹر حافظ احسن بن محمد الحمومی القادری (امام و خطیب شاہی مسجد باغ عام) نے شاہی مسجد باغ عام میں نماز جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اللہ کی دو بڑی صفات میں سے الرحمن اور الرحیم سر فہرست ہے۔ دونوں صفات کا تعلق اللہ کی بے پناہ رحمت، محبت اور شفقت سے ہے۔ اللہ نے انسان کو بڑی محبت اور تعلق کے ساتھ فطرت انسانی پر پیدا کیا ہے۔ فطرت الہی کا ایک عکس فطرت انسانی میں نظر آتا ہے۔ اللہ نے اپنی صفات کو انسانوں میں بھی نمایاں طور پر رکھا ہے۔ اللہ کی صفت رحمت سے انسانوں میں رحمدلی ودیعت کی گئی ہے۔ انسانوں کو آپس میں ایک دوسروں کو معاف کرنا اللہ کی صفت غفار سے متعلق ہے۔ کسی انسان کا ضرورت کے موقع پر کام آنا بھی اللہ کی رحمت والی صفت ہے۔ انسانوں میں جو رشتہ داریاں ہیں اور ان میں جو محبت اور مروت ہے وہ بھی اللہ کی محبت اور رحمت کا حصہ ہے۔ اگر راستہ چلتے چلتے کسی انسان (مسلم و غیر مسلم) کا حادثہ ہو جائے تو ہم اسے بچانے جاتے ہیں۔ یہ بھی اللہ کی صفت رحمت کا حصہ ہے۔ یوں اللہ نے اپنی کئی صفات انسانوں کو بھی عطا کی ہے۔ مہربانی، رحم اور رحمت کی اصل اللہ کی ذات ہے اور یہ اللہ کی خاص اور نمایاں ترین صفت ہے۔ اللہ نے اس صفت کو انسانوں میں بھی پیدا کیا ہے۔ اسی لیے اللہ فرماتا ہے کہ ’’اللہ کی بنائی ہوئی فطرت پر اُس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے‘‘۔ (سورۃ الروم: 30) دوسروں کے لیے حسن سلوک، رحمدلی، ان کا خیال رکھنا، لوگوںکے کام آنا، خیر خواہی، بھلائی اور محبت یہ ایسی صفات ہیں؛جو اللہ کے لیے خاص الخاص ہے، یہ اللہ کی فطرت ہے۔ اسی فطرت پر اللہ نے انسانوں کو بھی پیدا کیا ہے۔مولانا احسن بن محمد الحمومی نے کہا کہ ان صفات کو عام کرنے سے معاشرہ خوشحال اور خوشگوار ہوتا ہے۔ ہمدردی،رحمدلی اور محبت جتنی باٹیں گے، اس میں اتنا ہی اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔ یہ خدا کے خزانے ہیں، جو کم نہیں ہوتے ہیں۔ آج کے دور کا انسان اللہ کی دی ہوئی اس عظیم دولت کو ضائع کررہا ہے۔ صفات خداوندی کا عکس انسان پر ہوتا ہے تو اندازہ لگایا کہ وہ انسان کتنا عظیم،محبوب اور طاقتور ہوگا اور اگر اسے ضائع کردیا جائے تو اس سے بڑی محرومی اور نقصان کیا ہوسکتا ہے؟ ۔ آج کے دور کا معاملہ یہ ہے کہ ہم اے آئی اور ٹکنالوجی کے دور میں ترقی توکررہے ہیں لیکن انسانیت کو کھو رہے ہیں۔ رشتہ داروں میں کچھ ہو جائے ہمیں اس کا کا احساس تک نہیں ہورہا ہے۔ مسلمان بھائی کی مدد کے لیے چل کر جانے کی تو اتنی فضیلت ہے کہ حدیث کا مفہوم ہے جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے چل کر جاتا ہے، یہ اس کے لیے دس سال کے اعتکاف سے بہتر ہے۔ اگر ایک دن بھی انسان اعتکاف کرے تو اللہ انسان کو جہنم کے درمیان تین قندق کھود دیں گے اور ایک قندق کا فاضلہ زمین سے آسمان تک کی دوری کے برابر ہوگا۔