نئی دہلی: مسلمانوں نے انتہائی برے حالات کا سامنا اپنی حکمت عملی، دانائی، تحمل و تدبراورشریعت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کیا ہے اور جو طاقتیں اسلام اور مسلمانوں ختم کرناچاہتی تھیں وہ یا تو مٹ گئیں یا ان کے رخ میں نرمی آئی۔ امیرالہند مولاناسید ارشد مدنی نے امارت کانفرنس کے اختتام پر اپنے ایک بیان میں شرعی اصولوں کو اسلام کی مضبوط بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈوں سے مایوس اور احساس کمتری کا شکار ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے ،ہر دور میں ایسا ہوا ہے ،مگر اسلام کی حقانیت ہمیشہ غالب رہی ہے ۔کمیونزم کے عروج کے دور میں روس،وسط ایشیا میں اسلام اور اسلامی نظام کو ختم کرنا چاہتا تھا،روس کے اندر بہت سی ریاستوں میں اسلامی نظام کو اپنی دانست میں ختم بھی کردیا تھا،لیکن عجیب بات ہے کہ افغانستان جیسے غریب اور مفلوک الحال ملک میں پھنس کر وہ خود ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ پچھلے دنوں مغربی ممالک میں جب قرآن کریم کی بے حرمتی کی گئی تو روس کے صدر نے ایک مسجدمیں جاکر قرآن کو سینے سے لگالیا۔اس کی تصویریں پوری دنیا میں وائرل ہوئیں۔یہ خدا کی قدرت کا نظام ہے جو اسلام کو مٹانا چاہتے تھے آج وہی اسلام کے محافظ بنتے نظر آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح امریکہ جو دنیا کی سپر پاور طاقت تھی افغانستان پر قابض ہوا اور سالوں تک افغانیوں سے جنگ لڑتا رہا لیکن پھر خائب و خاسر ہوکر اسے بھی بھاگنا پڑا، اس کے بعد ایک امیرالمومنین کی ماتحتی میں وہاں اسلامی نظام قائم ہوگیا،اب افغانستان ترقی کررہا ہے اور دنیا میں اس کی کرنسی کی قدر میں اضافہ بھی ہوا ہے ۔